ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 453
حیا کے اصل معنے ہیں رک جانا۔لوگوں کے مراتب مختلف ہوتے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ اسے قول و فعل میں ہر شخص کے مراتب کو مد نظر رکھے۔مہاجر وہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی نواہی کو چھوڑ دے۔لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔کوئی تم میں سے اس وقت تک مؤمن نہیں ہوتا جب تک جو اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند نہ کرے۔جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہارے نوکر تمہارا کام کریں اسی طرح تم اپنے آقا کا کام کرو۔جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہارے آقا تم کو مزدوری دیں اسی طرح تم اپنے ملازموں کو مزدوری دو۔جس طرح تم چاہتے ہو کہ تمہاری لڑکی کے ساتھ اس کے سسرال سلوک کریں ایسا ہی سلوک تم اپنی بی بی اور بہو سے کرو۔غرض ہر امر میں اپنے دل سے فتویٰ لو۔جو سلوک تم چاہتے ہو کہ تمہارے ساتھ کیا جائے ویسا ہی سلوک تم ان کے ساتھ کرو۔انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے۔اَحَدُ النُّقَبَائِ۔تہتر آدمیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک رات بیعت کی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں میں سے بارہ آدمیوں کو ان کا سردار مقرر کیا تھا۔ان سرداروں میں سے ایک عبادہ بن صامت تھے۔سب کے نام یہ ہیں۔اسعد بن زرارہ، عوف بن الحارث، معاذ بن عفراد، زکوان بن عبدالقیس، رافع بن مالک، عبادہ بن الصامت، عباس بن عبادہ، یزید بن بعثہ، عقبہ بن عامر، قطبۃ بن عامر یہ سب لوگ خزاعی تھے۔ابولہیثم بن التیمان، عویم بن ساہہ اس میں تھے۔عَوَاقِبُ فِی الدُّنْیَا۔جو شخص یہاں صبر اور شکر اور ایمان کے ساتھ سزا کی تکلیف کو برداشت کرتا ہے اور صحت و آرام پر شکر گزار ہے وہ اس کے لئے کفارہ گناہ ہوجاتی ہے۔مَا تَقَدَّمَ۔جو کرنا نہیں چاہیے تھا اور کیا۔مَا تَاَ خَّرَ۔جو کرنا چاہیے تھا اور نہ کیا۔