ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 449 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 449

نکتہ امام بخاری صاحب ۱۹۴ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۲۵۶ ہجری میں وفات پائی۔اس وقت سنی، شیعہ، خواج سب موجود تھے۔اگر بخاری صاحب ہمارے مولوی صاحبان کی طرح تنگ خیال ہوتے تو وہ اپنے ہم خیال لوگوں کے سوائے اور کسی کی روایت نہ لیتے تو ان کی کتاب جناب الٰہی کے حضور ایسی قبولیت حاصل نہ کرتی۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ میرا دل بھی وسیع بنایا گیا ہے۔میں نے امام بخاری کی کتاب کو بڑے غور سے پڑھا ہے۔بعض لوگوں نے اس کے راویوں پر جرح کی ہے۔کسی کو کہا ہے کہ یہ قدری ہے کسی کو کہا کہ شیعہ ہے کسی کو کہا شافی ہے۔بنو امیہ کی سلطنت کو اچھا سمجھتا تھا۔کسی کو کہا کہ آخر عمر میں اس کا حافظہ گھٹ گیا تھا۔کسی کو کہا کہ آخیر میں پاگل ہوگیا تھا۔کسی کے متعلق بیان کیا کہ امیر نے اس کو تحفہ بھیجا تھا اور اس نے قبول کرلیا تھا۔غرض اس قسم کے اعتراضات راویوں پر کئے گئے ہیں مگر امام بخاری نے ان باتوں کی پرواہ نہیں کی۔انہوں نے صرف سچ کو دیکھا ہے۔جہاں صداقت ملی لے لی۔کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَآلَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَھَا حَیْث۔ُ وَجَدَھَا۔اب حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی کوئی حدیث کی جامع کتاب پیش فرماویں۔صرف ایک راوی کے متعلق مجھے شبہ ہوا کرتا تھا کیونکہ لکھا تھا کہ اس نے ہنسی ٹھٹھا کیا ہے اور ٹھٹھا کرنے والا آدمی بد احتیاط ہوجاتا ہے لیکن جب میں نے اصل واقعہ کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس شخص نے ٹھٹھا نہ کیا تھا بلکہ کسی کو اس کی بدی سے روکنے اور سمجھانے کے واسطے ایک بات کی تھی اور یہ اس کا مذہب تھا کہ دفع شر کے واسطے ایسا فعل کرنا جائز ہے۔امام بخاری کا بڑا اصل یہ تھا کہ جس سے روایت لی جائے وہ سچا آدمی ہو۔اٹھارہ سو شیخ سے روایت لی ہے اور اس کے واسطے کوفہ، بصرہ، مصر، مکہ ، مدینہ، موصل، بغداد سب جگہ سفر کیا ہے اور نوے ہزار آدمی کو احادیث سنائی ہیں۔نکتہ الفاظ کے معانی کے متعلق کچھ اصول یاد رکھنے چاہییں۔۱۔لفظ جمع کا ہو تو اس سے مراد کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ نہیں ہوگا جب تک کہ تصریح نہ ہو بلکہ مراد بعض سے ہوتی ہے۔اَلنَّاس سے مراد بعض الناس ہے۔۲۔جب ایک لفظ تنہا آوے تو اس کے معنے وسیع ہوتے ہیں جیسا اٰمَنُوْا جب اکیلا ہو۔مگر جب