ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 448 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 448

نکتہ بڑے بڑے لوگوں نے تو یہ لکھ دیا ہے کہ رزق و ایمان گھٹتا بڑھتا نہیں اور اس مسئلہ میں اتنی لمبی بحثیں ہوئی ہیں۔ع شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا امام بخاری صاحب نے ایمان بڑھنے اور گھٹنے کے متعلق آٹھ آیتیں لکھ دی ہیں۔میں جموں میں تھا کہ ایک طالب علم ہندوستان سے تازہ پڑھ کر میرے پاس آیا اور کہا کہ مولوی رشید احمد گنگوہی نے اس مسئلہ میں ایک ایسی بات نکالی ہے کہ ان کے مقابل غیر مقلدوں کو کچھ جواب نہ آیااور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں جو لکھا ہے کہ ایمان بڑھتا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ قرآن شریف جب نازل ہوتا تھا تو اس وقت تو بے شک سننے والوں کا ایمان بڑھتا تھا لیکن جب قرآن شریف ختم ہوگیا اور وحی بند ہوگئی تب سے ایمان بڑھتا نہیں ہے۔میں نے اسے جواب دیا کہ مسائل ایمان ترقی نہیں کرتے؟ اور جو نیا مسلمان ہوا وہ ہر روز نئے نئے احکام نہیں پڑھتا اور اس معنے کر اس کا ایمان نہیں بڑھتا؟ پھر علم حدیث کی ترقی سے نئے نئے علوم نہیں پیدا ہوتے؟ اچھا اس سب کے علاوہ اجماع اور قیاس صحیح نئے مسائل ایجاد کرنے سے مانع ہے وغیرہ وغیرہ۔مجھے امام ابوحنیفہ پر ہمیشہ حسن ظن رہا ہے اور قرآن شریف میں صریحاً (الانفال :۳) کے الفاظ ہوتے ہوئے میری سمجھ میں نہیں آسکتا تھا کہ امام ابوحنیفہ اس کے قائل نہ ہوں۔میرے حسن ظن کے واسطے خدا تعالیٰ نے ایک راہ نکال دی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس فقہی مقدمات بہت آیا کرتے تھے اور آپ ان کے فیصلے کیا کرتے تھے۔بعض لوگ بعض کی نسبت ایسے الفاظ بولا کرتے ہیں کہ یہ بڑے تہجد گزار ہیں، بہت عبادت کرتے ہیں، بڑے ایماندار ہیں۔تب آپ نے ایسے لوگوں کو کہا کہ محکمہ قضاء میں ایمان کی کمی زیادتی کا فیصلہ جات میں کوئی کام نہیں اس کا ذکر مت کرو۔معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایسی ہی بات کو لے کر پچھلے حنفیوں نے کچھ کا کچھ بنا دیا ہو اور نئے نئے وجوہات نکالے ہوں اور بعض آیات بھی لاتے ہوں مگر ان کے سب دلائل کچے ہیں