ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 44
مہمان کے لئے مکان صاف کیا جاتاہے اور حتی الوسع کوئی ناپاکی اور گندگی رہنے نہیں دی جاتی تو خدا کے کلام کے معانی کے نزول کے لئے ایک مصفّٰی دل کی کیوں ضرورت نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معاملہ میں اگر لوگ <mark>اس</mark> اصل پر چلتے تو کبھی دھوکہ نہ کھاتے اور نہ مستوجب وعید ہوتے۔چاہیے تھا کہ وہ خدا کے حضور رو رو کر عرض کرتے کہ الٰہی ہم پر حق کھل جائے۔<mark>اس</mark>تغفار کرتے، صدقہ و خیرات دیتے اور پاک زندگی اختیار کرتے۔انسان <mark>جو</mark> بُرے کام کرتا ہے۔ان کی ابتدا ان وسوسوں سے ہوتی ہے <mark>جو</mark> سینوں میں اٹھتے ہیں۔ان کا علاج یہ ہے کہ جب ایسے خیالات کا سلسلہ اٹھنے لگے تو <mark>اس</mark> جگہ کو بدل دے باہر چلاجائے کسی سے باتوں میں لگ جائے۔موت کو یاد کرے ایک مشغلہ میں اگر وہ سلسلہ نہ ٹوٹے تو دوسرا مشغلہ اختیار کرے۱؎۔تنہا نہ رہے قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دے۔عام طور پر لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ بہت پڑھے۔الحمد پڑھے۔<mark>اس</mark>تغفار کرے۔نبی ﷺ پر درود بھیجے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ کا ورد کرے۔اختلافات سے گھبرانا مومن کا کام نہیں اللہ تعالیٰ نے اختلاف کے رفع کے لئے یہ آیت فرمائی ہے۔ (الحدید : ۲۶) یعنی اختلاف رفع ہوتے ہیں کتاب سے اور پھر۔۔۔۔۔۔سے جس میں علم مناظرہ شامل ہے۔پھر لوہا بھی فیصلہ کرتا ہے <mark>جو</mark> پچھلے زمانہ میں اگر بصورت تلوار فیصلہ کن تھا تو <mark>اس</mark> زمانہ میں بصورت قلم ، غرض <mark>اس</mark>لام نے ہر مشکل کے حل کرنے کے لئے طریق سکھایا۔مبارک وہ <mark>جو</mark> قرآن شریف پر عمل کرتے ہیں۔(تشحیذ الاذہان) (الحکم جلد۱۶ نمبر ۱۴ مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۱۳ء صفحہ ۱ تا ۳) دینی سفر پر روانگی کے لئے اجازت اور طلب دعا ۲؍اپریل ۱۹۱۲ء کو عشاء کی نماز سے پہلے (علوم عربیہ کی تحصیل کے سلسلہ میں ایک دینی سفر پر جانے والے وفد حافظ مولوی روشن علی صاحب، مولوی سید سرور شاہ صاحب ، مولوی قاضی سید امیر حسین صاحب، مولوی فاضل عبد المحی عرب صاحب اور حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب پر مشتمل)یہ کل احباب ۱؎ نماز کے ارکان قیام، رکوع ، س<mark>جو</mark>د سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے۔