ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 45 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 45

حضرتخلیفۃ المسیح کے حضور حاضر ہوئے۔خاکسار ایڈیٹر الحکم ان بزرگوں سے پہلے پہنچ گیا تھا۔اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح ایک خادم کو کسی خط کا جواب لکھ رہے تھے۔جب جواب سے فارغ ہوئے تو خاکسار ایڈیٹر الحکم کو قریب بلاکر فرمایا۔ندوۃ نمبر پر ریمارک میں نے آپ کا ندوۃ نمبر پڑھ لیا ہے اور خوب غور سے پڑھا ہے۔مجھے اس میں دو نقص معلوم ہوئے ہیں ایک تو یہ کہ کسی قدر سختی سے کام لیا ہے اور اس سختی میں بعض لوگوں کے نام لئے ہیں۔قرآن مجید طرز کو اختیار کرنا چاہیے۔قرآن مجید بلا اظہار نام غلط اور باطل عقائد پر زد مارتا ہے اور ایسی زد مارتا ہے کہ کوئی کیا مار سکے گا۔اگر قرآن مجید میں ابوجہل یا دوسرے منکرین مخالفین کا ذکر بقید نام ہوتا تو ان کی اولاد کو اس کا پڑھنا سخت ناگوار ہوتا۔انبیاء علیہم السلام اور مامورین کی حالت کچھ اور ہوتی ہے وہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی کسی تحریک کے نیچے بعض لوگوں کے نام لیتے ہیں اور ان کے متعلق بعض اوقات ایک ایسی سختی سے کام لیتے ہیں جو سراسر رحمت ہوتی ہے۔مگر ہر شخص کا کام نہیں کہ اس طریق کو اختیار کرے۔آپ جانتے ہیں کہ میں اپنی تحریروں میں مخالفین کو نام لے کر مخاطب نہیںکرتا۔اب آپ کو معلوم ہوا ہے کہ فصل الخطاب کس کے لئے لکھی گئی مگر جو شخص فصل الخطاب کو پڑھ جاوے گا اور اسے بتایا نہ جاوے اس کو معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کے جواب میں ہے۔اس لئے قرآن کریم کے اس طریق کو میں بہت پسند کرتا ہوں۔مولوی عبدالکریم مرحوم (بڑی لمبی دعا ان کے لئے فرمائی) مجھ کو بہت پیارا تھا میں اس کی تقریر اور تحریر کو پیار سے پڑھتا اور سنتا تھا۔ان کی تحریر میں اور تقریر میں تیزی ہوتی تھی میں اس تیزی کو بھی پسند کرتا مگر باوجود اس پیار کے جو مجھے ان سے تھا۔خدا تعالیٰ کی کتاب تو ان سے پیاری تھی اور پیاری ہے عبدالکریم کیامجھے تو خدا تعالیٰ کی کتاب سب سے پیاری ہے ہاں اس کے لانے والا بھی میرا محبوب ہے اور بہت ہی محبوب ہے مگر اس کو بھیجنے والا پھر ایک ہی محبوب ہے کہ اس کے سامنے ساری محبتیں فنا ہو جاتی ہیں اور یہ اسی محبوب کا کلام ہے۔پیارے کی پیاری باتیں ہوتی ہیں اور میری تو یہ غذاہے۔پس میں آپ کو طرز تحریر اور طرز بیان میں قرآن مجید کے اسلوب کے اتباع کی طرف توجہ