ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 43
کرنے والا مہربان پاتے۔شفاعت کی حقیقت سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ لفظ شفع سے نکلا ہے اور مندرجہ ذیل آیت (اٰل عمران : ۳۲) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اتباع انسان کے گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔حضور انور کی ذات ستودہ صفات ایک نور ہے جو اس نور سے تعلق پیدا کرتا ہے اس سے ظلمات دور ہوتی ہیں یہ شفاعت ہے۔مجرموں کی جنبہ بازی کا نام شفاعت نہیں جیسا کہ بعض نادانوں نے غلطی سے سمجھا ہے اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔حل مشکل جب کوئی ایسا مسئلہ تمہارے سامنے پیش ہو جس کا جواب تمہیں نہ آتا ہو تو خصم کو محض الزامی جواب دینا جوانمردی نہیں کیونکہ جس بات پر خود تم کو یقین نہیں اسے دوسرے کو منوانا یا ماننے کے لئے کہنا دیانتداری کے خلاف ہے۔چاہیے کہ اس آیت یا سوال کو لکھ کر دیوار پر کسی نمایاں جگہ جہاں ہر وقت تمہاری نظر پڑتی رہے آویزاں کر دو۔ادھر صدقہ و خیرات کرو۔استغفار بہت پڑھو۔ایمان بالغیب کے رنگ میں اللہ تعالیٰ سے بہت بہت دعائیں کرو۔یقینا یقینا تم کو سچائی کی راہ نظر آجائے گی۔قرآن کریم کے ابتدا میں ہی اس نکتہ کو ظاہر کیا گیا ہے۔فرماتا ہے ( البقرۃ: ۳،۴) ہدایت ان لوگوں کا حصہ ہے جو گناہ آلود زندگی سے بچنے والے ہوں۔پھر ایمان بالغیب رکھیں دعاؤں میں لگے رہیں اور کچھ صدقہ خیرات بھی کریں۔حضرت امام شافعیؓ کا ایک شعر ہے۔فَاِنَّ الْعِلْمَ نُورٌ مِّنْ اِلٰہٍ وَ نُورُ اللّٰہِ لَا یُعْطٰی لِعَاصِیْ یہ دراصل تفسیر ہے(الواقعۃ : ۸۰) کی۔پس قرآن مجید کے غوامض کی تہہ کو پہنچنے اور معضلات مسائل کے لئے پاک زندگی اور مطہر قلب ہونا چاہیے۔ایک معمولی