ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 420 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 420

کیا فری تھنکر احمدی ہوسکتا ہے؟ حضرت نور الدین اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ المسیح نے جناب خواجہ کمال الدین سے ایک خط میں بطور سوال دریافت کیا تھا کہ ’’کیا فری تھنکر احمدی ہو سکتا ہے؟‘‘اور جناب خواجہ کے جواب کا انتظار نہ کیا بلکہ خود ہی متصل جواب تحریر کردیا تھاکہ ’’ نہیں اور ہرگز نہیں۔‘‘ یہ خط قادیان سے لندن ارسال کیا گیا تھا۔اغلباً وہ خط جناب خواجہ کے پاس موجود ہوگا اور ضرور ہوگا۔اخبار پیغام لاہور میں بھی شائع ہوا تھا۔(نوشتہ قاضی محمد یوسف صاحب سیکرٹری انجمن احمدیہ پشاور) (اخبار فاروق جلد۲ نمبر۹ مورخہ یکم فروری ۱۹۱۷ء صفحہ۳) حضرت مسیح موعود ؑ کی تفسیرقرآن حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب کس پایہ اور علم کا آدمی تھا۔میں(منشی محب الرحمن سب یونین ماسٹر جے جوں) نے بارہا ان سے سنا تھا فرمایا کرتے تھے۔مرزا صاحـب ؑ نے کہاں اتنی کتابیں دیکھی ہیں جتنی انہوں نے، لیکن جب کبھی کسی آیت کی تفسیر حضرت مسیح موعود ؑ سے سنتے گھر جاکر اپنی تفسیر کے اوراق چاک کر دیتے تھے۔(ماخوذ از امیر پیام سے کچھ کلام، فاروق جلد۲ نمبر۹ مورخہ یکم فروری ۱۹۱۷ء صفحہ۴،۵) فلسفۂ تعلیم فضیلتِعلم سب سے اوّل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ علم ہے کیا چیز اور وہ کیسی نعمت ہے۔پھر دینی طور پر کیسی اور دنیوی طور پر کیسی؟ فضیلتِعلم پر آیات قرآنیہ قرآن مجید پر غور کرنے سے مجھے یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (جو ا علم باللہ اور جامع کمالات نبوت وانسانیت ہیں) کو اللہ تعالیٰ نے ایک دُعا تعلیم فرمائی۔(طٰہٰ :۱۱۵) (اے میرے ربّ میرا علم زیادہ کردے)(میں بھی کہتا ہوں رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔آمین) تو پھر اور کون شخص ہے جس کو علم کی ضرورت نہیں۔یہ آیت جہاں فضیلت علم کو