ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 419
صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ تو امی لوگوں میں مبعوث ہوئے ہیں یعنی بھیجے گئے ہیں اور ایک دفعہ ان پیچھے آنے والوں میں بھی مبعوث ہوں گے جو کہ ان پہلوں کے ساتھ نہیں ملے۔پس ما قبل پر نظر کرنے سے (البقرۃ:۵) کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ لوگ پیچھے آنے والی بعثت نبی کریمؐ پر یقین کرتے ہیں۔یہ تو اس صورت میں ہوں گے جب ما قبل میں یعنی مَا اُنْزِلَ میںمَا مصدریہ لیا جاوے اور اگر مَا موصولہ بمعنی جو لیا جاوے تو اس سے وحی مراد ہے جو کہ پیچھے آنے والی ہے جیسے کہ مَا اُنْزِلَ سے وحی مراد ہے۔پس پہلے ترجمہ کے لحاظ کے معنے یہ ہوں گے اور وہ لوگ پیچھے آنے والی وحی پر یقین لاتے ہیں۔(الفضل جلد۳ نمبر ۸۱ مورخہ ۱۹؍ جنوری ۱۹۱۶ء صفحہ۵ ) ہندی طب کی دو کتب کی اشاعت پر اظہار خوشنودی چند روز کا ذکر ہے کہ میں نے چرک اور سشرت بذریعہ وی۔پی آپ سے منگوائے تھے۔یہ دونوں کتابیں میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور پیش کیں۔آپ نے بعد ملاحظہ آپ کی طرف ان سطور کے لکھنے کا مجھے حکم فرمایا ہے۔’’چرک اور سشرت کی اشاعت کے ذریعے جو نیکی آپ نے ہندوستان پر کی ہے بہت بڑی عظیم الشان ہے۔ہر طبیب کو ضرور شکر گزار ہونا چاہیے۔‘‘ (راقم محمد یوسف ایڈیٹر نور قادیان ضلع گورداسپور ۲۵ ؍فروری ۱۹۱۳ء) (ماخوذ از ملفوظات خلیفۃ المسیح۔نور جلد ۷ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۷؍ ستمبر ۱۹۱۶ء صفحہ ۱) کتاب ’’قدیم ہندوستان کی روحانی تعلیم ‘‘کی نسبت رائے اس بہت بہتر کتاب کی نسبت حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب تحریر فرماتے ہیں۔میں نے کتاب ہندوستان کی روحانی تعلیم کو کمال دلچسپی سے پڑھا مجھے بہت ہی پسند آئی۔اس کتاب کے مطالعہ سے مجھے بہت ہی خوشی حاصل ہوئی۔کتاب بہت ہی دلچسپ ہے۔دستخط نور الدین (خلیفۃ المسیح) (اخبارنور جلد۸ نمبر۶ مورخہ ۱۷ ؍جنوری ۱۹۱۷ء صفحہ۲)