ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 421

ظاہر کرتی ہے وہاں دوسری طرف ضرورت علم پر بھی دلیل ہے۔بخاری صاحب نے بھی فضیلت علم میں ایک آیت لکھی ہے۔(المجادلۃ:۱۲) یہ آیت بھی جامع ہے۔اس میں اس علم کو جو معاد سے تعلق رکھتا ہے جس سے انسانی نفوس کی تہذیب و اصلاح اور اس کے عقائد معاملات اور اعمال کی درستی مقصود ہے کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ایمان کے مدارج اعمال کے ساتھ اس کا تعلق یہ کتاب الایمان میں گذر چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ایک رفعت شان عطا فرماتا ہے اور صاحبان علم کے مدارج بھی بلند ہوتے ہیں۔چونکہ بعض علوم ایسے ہیں جن میں ایمان یا تزکیہ نفوس اور اصلاح اعمال کا کوئی تعلق نہیں اس لئے صاف الفاظ میں یہ آیت بہیئت مجموعی علم کی فضیلت کو بتاتی ہے اور پھر تحقیق کرکے جو  کو ہے علم الادیان کی فضیلت سمجھائی ہے۔ان دو آیتوں کے سوا ایک تیسری آیت بھی ایک بزرگ نے فضل علم پر لکھی ہے۔ (اٰل عمران :۱۹)۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا ہے کہ اہل علم میری ہستی پر گواہی دیتے ہیں اور میری وحدانیت پر بھی شہادت دیتے ہیں۔چونکہ بعض نادان ونابکار لوگ سا ئنس کے غلط استعمال اور عدمِ تدبّر کی وجہ سے خدا کی ہستی کا انکار بھی کرتے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی غایت حکمت سے اس آیت میں ایک لفظ رکھ دیا ہے جو ہمیشہ اس کی صداقت کو ظاہر کرتا رہے گا اور وہ لفظ ہے کیامطلب کہ وہ اہل علم جو صحیح علوم رکھتے ہوں اور قائم بالقسط ہو کر غور کریں۔اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کے سچے علوم کبھی بھی خدا تعالیٰ کی ہستی کے خلاف نہیں ہوسکتے۔اسی لئے میں کہا کرتا ہوں اور یہ میرا مذہب ہے کہ جوں جوں سائنس ترقی کرے گا اور علوم بڑھیں گے اسی