ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 414
بڑا ہو اتنے ہی اس کے اخلاق میں وسعت ہو۔ہمارے مطاع و مقتدا علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جناب الٰہی فرماتے ہیں۔(القلم:۵)۔اس موقع اور محل پر عمدہ و مناسبت کے لحاظ سے کوئی سختی کرے جو مصالح وقتی پر موقوف ہو تو اس سے وہ نہیں چوکتا مگر اس کی کلام اور حرکات مجنونانہ نہیں ہوتے وہ مجنونانہ وار جامہ سے باہر نہیں نکلتا اور الٰہی نصرت ہر دم اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ (القلم:۶،۷)اور فرمایا (المؤمن:۵۲)اور فرمایا (الروم:۴۸) اور فرمایا (المنافقون:۹)۔وہ محبت الٰہیہ میں روزانہ ترقی کرتا ہے کسی وقتی اور آنی ناکامی سے گھبرا تا نہیں بلکہ قدم آگے بڑھاتا ہے۔نقص علم اور نقص تقریر سے اسے بہت تنفر ہوتا ہے اس لئے ان امور میں ترقی کرتا رہتا ہے۔معارف قرآنیہ سے متمتع ہو کر عام مخالفوں کے لئے مقابلہ کے واسطے تیار رہتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الرحمٰن:۲تا۵)۔انسان سے مراد وہی کامل انسان ہے وہ ابکم نہیں جو اپنے مولا پر دو بھر نہ ہو۔ایک جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (النجم:۶تا۸)۔معلم عظیم کا سدھایا ہوا تعلیم میںکمال رکھتا ہے اور وہ اپنے زمانہ میں افق اعلیٰ پر ہوتا ہے۔اس کا مقابلہ کرنا خوفناک ہوتا ہے۔وہ اپنی ترقیات کے لئے دعائیں مانگتا ہے۔حضرت موسیٰ فرماتے ہیں۔(طٰہٰ:۲۶تا۲۹)۔وہ اپنے کسی علم کو کافی سمجھ کر نہیں ٹھہرتا بلکہ ہر وقت قدم آگے بڑھاتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام نے تو کہا ہی تھا مگر جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ (الانشراح:۲) وہ بھی کسی مقام پر ٹھہرنا پسند نہ کرتا تھا۔اس واسطے الہام ہوا۔(طٰہٰ:۱۱۵)۔اس کا عزم بڑا قوی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الاحقاف:۳۶)اس کی بعض تدابیر کارگر نہیں ہوتیں اور بعض وقت اس کے جان نثار احباب کو