ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 415
صدمات پہنچتے ہیں مگر یہ سب کچھ اس کی ترقی کا موجب ہوتا ہے اور رنگ برنگ صدمات میں وہ وفادار ثابت ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(النجم:۳۸)صدق و اخلاص اور اقبال علی اللہ میں اس کے لئے کوئی روک نہیں ہوتی۔ہاں یہ لوگ مصائب میں آتے ہیں۔قرآن شریف میںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(یوسف:۱۱۱) (البقرۃ:۲۱۵)۔یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔تب ان کو آواز آتی ہے کہ (البقرۃ:۲۱۵)۔کشوف صحیحہ الہامات صادقہ اور کائنات کے عظیم الشان تغیر سے اس کو بعض وقت آگاہی ملتی ہے۔سرور اور شوکت اور نیکی میں ترقی پکڑنا یہ اس کا تاج ہوتا ہے۔ہر ایک قسم کی بزدلی اور جبن سے اس کی طبیعت کراہت کرتی ہے۔اس کی بہت دعائیں اس کے لئے قبول ہوتی رہتی ہیں کہ وہ اپنے مولیٰ کا شکر گزار ہو اور بعض دعائیں اس واسطے نہیں سنی جاتیں کہ وہ صبر کے۔۔۔۔۔سے متمتع ہو۔یہ بھی ضرور ہے کہ لوگ اس کی مخالفت کریں اور کرتے ہیں وہ ناخنوں تک زور لگاتے ہیں تا کہ باوجود ان مخالفتوں کے اس کی کامیابی اس کی صداقت کا نشان ہو۔ہم نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ بڑے بڑے دعاوی کرتے ہیں مگر کوئی ان کو پوچھتا بھی نہیں اور نہ کوئی ان کا معترض ہوتا ہے۔لاہور میں ہمارے ایک پرانے آشنا ہیں ان سے وہاں ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کے معاملہ میں لوگ آپ کی مخالفت اس واسطے کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے پیر کا ادب نہیں کیا اور اسے صرف مسیح کہا۔مسیح کیا ہوتا ہے؟ ہم تو اپنے پیر کو خدا کہتے ہیں۔یہ کہہ کر اس نے وہاں جو بیٹھے تھے ان کو بلند آواز سے پکار کرکہا کہ کیوں او لاہوریو!ہم اپنے پیر کو خدا کہتے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا۔بے شک آپ اپنے پیر کو خدا کہتے ہیں۔پھر مجھے کہنے لگا دیکھو ہماری کوئی مخالفت نہیں کرتا۔غرض ایسے لوگوں کی مخالفت میں جوش نہیں ہوتا مگر صادق حق گو کی مخالفت میں جوش اٹھتا ہے۔پھر باوجود اس کے وہ ایک حد تک کامیاب ہو کر دنیا سے جاتا ہے اور اس کے پورے پورے مخالف کبھی تو (البقرۃ:۱۶)کے مصداق ہوتے ہیں اور گاہے(الطارق:۱۸)کے ماتحت کچھ