ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 413 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 413

 (السجدۃ:۲۵)۔پس امامت کا حقیقی سرچشمہ حضرت حق سبحانہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔آدم کی نسبت بھی ایسا ہی فرمایا ہے کہ (البقرۃ:۳۱)۔جس طرح امامت حقیقی حضرت پروردگار کی طرف سے ہی عطا ہوتی ہے ایسا ہی ان اماموں کے خلفاء اور اماموں کا بھی حال ہے۔خلافت کسی شخص کی تدبیر سے نہیں بن سکتی۔قرآن شریف میںصاف لکھا ہے (النور:۵۶)۔اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ امامت ہو یا خلافت ہو بدوں تائید الٰہی کے کچھ نہیں ہوسکتا۔آیت استخلاف سے قبل جناب الٰہی نے ایک بہت لمبا ذکر کیا ہے۔اس میں اشارہ ہے کہ جن لوگوں کو ہم خلیفہ بنانے والے ہیں وہ ایک نور الٰہی اپنے اندر رکھتے ہیں اور تا جر لوگ ہیں۔جناب الٰہی کی بڑائی ان کے گھروں میں صبح شام ہوتی ہے۔یہ بھی ذکر آیا ہے کہ ان کی مخالفت ہوگی مگر ایسی ہوگی جیسا کہ کوئی دور سے سراب کو پانی سمجھتا ہے یا دریا میں موجود ہے مگر ظلمتوں کے سبب اپنے ہاتھ کو بھی نہیں دیکھ سکتا۔کیا معنے ان خلفاء کے دشمن یا دھوکے میں ہوں گے یا جان بوجھ کر غلطی و ظلمت میں۔پھر خلفاء کے دشمنوں کی تباہی کا ذکر فرمایا ہے۔بھلا کوئی بتائے کہ کیا موت اور حیاتی اور وحدت ارادی کوئی اختیاری امور ہیں۔جہاں تک قرآن شریف اور اس کے مطابق واقعات کو دیکھا جاتا ہے امامت اور خلافت کے لئے پہلا مرحلہ تو یہ ہے کہ اس کا حسب و نسب اعلیٰ درجہ کا ہو۔ولی بننا، قرب الٰہی کا حاصل کرنا اور فیضان الٰہی کا مظہر بننا کسی حسب و نسب پر موقوف نہیں مگر امامت و خلافت کے واسطے اس مرحلہ کو بھی طے کرنا ضروری ہے۔جو بدوں ازاں اس کے ممکن نہیں۔بخاری شریف کے ابتداء میںلکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی سوال ہوا تھا۔کَیْفَ لِنَسَبِہٖ فِیْکُمْ ( وہ کیسا شریف و معظّم خاندان کا ہے) اور جواب دیا گیا تھا کہ ھُوَ فِیْنَا ذُوالنَّسَبِ۔دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وہ بسط فی العلم رکھتا ہو۔اس شرط کے متعلق قرآن شریف میں (البقرۃ:۲۴۸)فرما کر آگاہ کردیا ہے کہ امامت دینی کے لئے حوصلہ اور بسط فی العلم کی بڑی ضرورت ہے۔ہر زمانہ کا امام اپنے مخالف سے وسعت کے ساتھ بحث کرسکے نیز خلیفہ اور امام کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اخلاق وسیع ہوں۔جتنا