ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 403 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 403

خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس کو ضرور ایک دفعہ مطالعہ فرماویں۔اس میں صاف حضرت سیدنا نورالدین خلیفۃ المسیح رضی اللہ عنہ نے لکھ دیا ہے کہ یہ محض خدا کی قدرت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اتنے دعوے داروں کے مجھ کو خلافت کے لئے چن لیا اور جماعت کو مجھ پر جمع کردیا۔اطاعت فی المعروف سے کیا معنی؟ حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے کہ ان کی مرضی کے مطابق ہم فیصلہ کریں تو اطاعت کے لئے تیار ہیں۔اگر ان کے ذرا بھی خلاف فیصلہ دیں تو کہتے ہیں کہ یہ امر بالمعروف نہیں ہے۔(النور:۴۹تا۵۱) اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں۔پھر ایک فریق ان میں سے پھر جاتا ہے اور وہ ایماندار نہیں ہیں اور جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ایک فریق ان میں سے پھر جاتا ہے اور اگر ان کے حق میں فیصلہ ہو تو فرمانبرداری کرتے ہوئے آجاتے ہیں۔کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے۔یا یہ شک میں پڑگئے ہیں یا ان کو ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا۔بلکہ یہ خود ہی ظالم ہیں۔(ماخوذ از قدرت ِ ثانیہ۔الفضل جلد ۱ نمبر۵۲ مورخہ ۸ ؍ جون ۱۹۱۴ء صفحہ۱۱) منکران خلافت پر اتمام حجت حضرت خلیفۃ المسیح مولانا نورالدین کی قلمی شہادت مرزا یعقوب بیگ، شیخ رحمت اللہ، سید محمد حسین ، مولوی محمد علی صاحبان خطرناک مخالف ہیں۔منکران خلافت کے سرغنوں کا جو طرز عمل اپنے مانے ہوئے مہدی اور خلیفہ سے تھا وہ حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کی تحریر کے عکس سے ظاہر ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جو اب