ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 404
پاک ممبر کہلاتے ہیں آپ کو نہ صرف تحریراً بلکہ سامنے زبانی بھی بہت دکھ دیتے رہتے اور آپ کی خطرناک مخالفت کرتے۔مولوی محمدعلی صاحب چونکہ قادیان میں رہتے تھے اس لئے وہ خود ذرا پیچھے پیچھے رہتے اور ان کو اکسا دیا کرتے۔جیسا کہ اس وقت ان کے سردار بن جانے سے ظاہر ہے کہ پسِ پردہ در اصل آپ ہی کا وجود تھا۔اس خط کو پڑھ کر اب کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ خطرناک مخالف ہونے کا الزام جھوٹا ہے یا کسی نے حضرت مولانا خلیفۃ المسیح کو غلط فہمی میں ڈال دیا تھا۔کیونکہ آپ نے لکھا ہے میرے سامنے اور تحریراً ان لوگوں نے خطرناک مخالفت کی ہے۔پس سلسلہ کے غیور فرزند ایسے خطرناک عنصر سے علیٰحدہ ہو جاویں۔یہ خط شیخ یعقوب علی صاحب کے نام ہے جو ان دنوںاجے گڈھ تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے ان کو اس لاہوری فتنہ کے مقابلہ کے لئے قادیان بلایا۔نقل مطابق اصل السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ ۱۔سردار صاحب کومیری طرف سے سلام کہہ دیں۔ان کے بچوں کی خیریت پوچھ لیں۔۲۔آپ اس علاقہ کا ذکر کرتے ہیں۔مسلمانوں نے کیا عمدہ نمونہ دکھائے کہ لوگوں کے دلوں پر تصرف کرتے۔کیاقادیان کی حالت قابل رحم نہیں۔کیا یہاں سے آپ فارغ ہوگئے کہ وہاں کا فکر ہوا۔اوّل خویشاں بعدہ درویشاں۔ حالت ناگفتہ بہ ہے۔ایک برائے نام مسلمان ایڈیٹر نے مجھے بلاواسطہ کہا کہ اس وقت ضرورت ہے کوئی شخص مردم شماری میں مسلمان لکھوا دے چاہے کلمہ بھی نہ پڑھے۔۳۔للہ وفی اللہ وباللہ وعظ کرنے والے کہاں ہیں۔بات کریں تو تنخواہ کا سوال پہلے پیدا ہوتا ہے۔۴۔شیخ محمد اسمٰعیل صاحب علیل ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جلد صحت بخشے ، مخلص ہیں۔۵۔جہاں علماء ، فقراء، امراء، اور کالجیٹ نوجوان ہی اسلام کو ایک غیر ضروری چیز یقین کریں وہاں ان بیچاروں کا کیا قصور خیال کیا جاوے۔نورالدین۲۳ رمضان شریف