ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 402 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 402

ڈالتی ہے۔اور جو ناظرین الحکم کے فائدہ کے لئے درج کی جاتی ہے۔( اسسٹنٹ ایڈیٹرالحکم) آپ (سائل) فتویٰ پوچھتے ہیں کہ جن میں ۹۹ وجہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اسلام کی ہو اسے ہم کافر کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ صاحب یہ حیرت انگیز اور بودا خیال و سوال ہے اور نہایت کمزور ہے۔اس سوال پر اگر کوئی کہے کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کونہیں مانتا ، فرشتوں، رسولوں، انبیاء، جزاء وسزا کو نہیں مانتا۔مثلاً۔اور یہ پانچ باتیں ہیں۔لیکن زنا نہیں کرتا یا شراب نہیں پیتا تو اسے مسلمان کہنا چاہیے؟ آپ تو ۹۹ کا سوال فرماتے ہیں میں تو صرف پانچ وجہ کا تذکرہ کرتا ہو۔یا ایک شخص فرشتے مانتا ہے مگر نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہے تو اس میں ایک وجہ کفر کی اور ایک وجہ اسلام کی ہے کیا آپ اسے مومن مسلمان کہیںگے؟ برادرم باشی سینکڑوں امور کفر کے ایسے ہیں کہ اگر ان میں ایک کا بھی معتقد ہو تو کافر ہوسکتا ہے کجا ۹۹۔مثلاً کوئی کہے اللہ کا ماننا لغو ہے یا کہے رسول کا اعتقاد بیہودہ ہے تو کیا آپ کو اس کے کفر میں تردد ہوگا؟ اسرائیلی مسیح کے وقت منکر یہود اللہ تعالیٰ کو مانتے تھے، توریت پر ان کا ایمان تھا، سب رسولوں کو مانتے تھے سوائے حضرت مسیح کے، کیا وہ کافر تھے یا نہ تھے؟ ہمارے پاک سردار سید و مولیٰ خاتم الرسل خاتم الانبیاء شفیع یوم الجزاء محمد رسول اللہ ﷺ کے منکر یہود و نصاریٰ اللہ کو مانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں کو مانتے ہیں کیا اس انکار پر کافر ہیں یانہیں ؟کافر ہیں۔اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں۔اگر اسرائیلی مسیح موسیٰ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع ایسا ہی اس کا منکر کافر ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کا خاتم الخلفاء یا خلیفہ یا متبع کیوں ایسا نہیں کہ اس کا منکر بھی کافر ہو۔اگر وہ مسیح ایسا تھا کہ اس کا منکر کافر ہے تو یہ مسیح بھی کسی طرح کم نہیں۔یہ محمدی مسیح اور محمد ﷺ کا جانشین اور اس کا غلام ہے۔(الحکم جلد ۱۸ نمبر ۱۹ مورخۃ ۲۸؍ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۸،۹) سیدنا نو رالدین قدرت ثانیہ کے کیا معنی کرتے ہیں صدر انجمن احمدیہ نے حضرت خلیفۃالمسیح اوّل کے عہد مبارک میں الوصیت دوبارہ طبع کرائی تھی اوراس کے ساتھ حضرت خلیفہ بلا فصل کی شرح بھی ساتھ ہی منسلک کی گئی ہے میں افراد سلسلہ عالیہ کی