ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 390 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 390

۲؍ مارچ ۱۹۱۴ء (محمد:۲) پر فرمایا کہ ان کو ناکام کردے گا۔فرمایا۔بڑے ہی بد بخت تھے وہ لوگ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردینا چاہا مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر رحم کیا، غریب نوازی کی۔فرمایا۔سیدھا سیدھا۔قرآن بڑا عمدہ ہے۔(محمد:۱۴) پر فرمایا۔یہ جنت جو ہم صحابہ کو دیں گے تورات میں اس کی تصریح کردی۔اسی کا نام جنت عدن ہے۔تورات بڑی پیاری کتاب ہے۔فرمایا۔بعض وقت قرآن کریم کے فقرہ کو ایسا صاف کردیتی ہے۔جنت عدن کی تعریف اور تشریح کی ہے۔افسوس اس پاک کتاب کی قدر نہ ہوئی اور جو کروڑوںروپیہ صرف کیا ناعاقبت اندیشی کی مجھے تورات بڑی پیاری۔۔الآیۃ(محمد:۲۳) پر فرمایا۔میں تو جب اس کو پڑھتا ہوں تو یزید کے متعلق پاتا ہوں۔اس پلید نے قطع رحم کیا۔بڑا ہی بدبخت تھا۔امام حسین رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذریت ہے اس نے اتنی بڑی نسل کو بری طرح ضائع کیا۔پھر فرمایا۔اتنی دیر مجھے طاقت رہتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اتنا رحم کیا ہے ساری دنیا سے بے پرواہ کردیا ہے۔ایک مضمون سمجھا دیا ہے۔سارا جہان ایک طرف ہوجاوے مجھے کیا پرواہ ہے۔یہ اس کا فضل ہے۔مکہ والوں پر مجھے تو رحم آتا ہے ان پر کتنا بڑا رحم کیا ادھر آئے ہی نہیں نہ فائدہ اٹھایا۔ہزار ہا امام ہوگئے مکہ میں ایک بھی نہیں۔ہزاروں مصنف ہوئے ان میں کوئی بھی نہیں۔یہ بڑی سزا ہے۔۶؍ مارچ ۱۹۱۴ء آج حضرت کی طبیعت بدستور کمزور رہی۔رات کو کسی قدر بے چینی رہی، پیاس بھی تھی۔مولوی محمد علی صاحب نے سورۃ نجم کے متعلق مخالفین کے اس اعتراض کا استفسار کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ بتوں کی تعریف کی گئی تھی۔اس پر فرمایا۔جھوٹے ہیں۔قرآن مجید میں کہاں ہیں؟ ساری سورۃ میں بت پرستی کی مخالفت ہے اور مشرکین