ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 389
۲۸؍ فروری ۱۹۱۴ء ڈاکٹر خلیفہ حافظ رشید الدین صاحب رات بھر حضرت کے پاس رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی جزاء ہو اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب بھی اپنے کاروبار کو لات مارکر آپ کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔یہ قربانی قابل قدر ہے۔اللہ تعالیٰ ہی جزا ہوسکتا ہے۔صبح کو یہ بزرگ حاضر ہوئے تو فرمایا۔کھانسی بہت ہوتی ، سیدھے لیٹے لیٹے چار گھنٹہ گزر گئے۔پھر فرمایا۔خاتمہ اسلام پر ہو۔پھر نواب صاحب کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ مکان بہت خوب ہے اس میں مجھے بہت آرام ہے۔خدا آپ کو جزائے خیر دے اور غریبوں کے پاس کیا ہے۔درس قرآن کریم (الزخرف:۸۲) پر فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابنیت مسیح کی خوب تردید کی ہے۔بتایا کہ جب میں خدا تعالیٰ کا اتنا بڑا پرستار ہوں اور اسی کا نام جپتا ہوں بھلا اگر خدا کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں منکر ہوسکتا تھا؟ کیسے صاف معنے ہیں۔پھر قرآن شریف کے متعلق فرمایا۔دنیا میں بڑا اندھیر پڑا ہوا تھا اس نے حکمت کی باتیں دنیا میں پھیلا دی ہیں اب یہ نشوو نما پائیںگی۔مولوی محمد علی صاحب نے عرض کیا۔حضور پچیسواں پارہ ختم ہوگیا ہے۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر کہا۔تیرا فضل تیرا کرم۔پھر خدا تعالیٰ کے انعامات اور برکات کے نزول کا یوں ذکر کیا کہ اس بیماری میں آپ قرآن کے لئے آتے ہیں تو لیلۃ القدر ہوجاتی ہے۔کون جئے گا ، کیا ہوگا۔مجھ پر تو خدا تعالیٰ کی رحمت کے عجیب عجیب بادل چڑھتے ہیں اور مجھ پر برستے ہیں۔اس بہار کی پھوہار کو میں ہی سمجھتا ہوں۔شام کے کھانے کے بعد فرمایا۔اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ مَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ وَا تَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ۔