ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 391
مکہ پر عذاب کی پیشگوئیاں ہیں۔پھر مولوی صاحب نے اِنْشَقَّ الْقَمَرُ کے متعلق دریافت کیا۔فرمایا۔اب تو سائنس نے اس مسئلہ کو حل کردیا ہے۔سائنس دان کہتے ہیں کہ چاند میں سے ٹکڑے گرتے رہتے ہیں اور بڑے بڑے میوزیم میں وہ رکھے بھی ہیں۔حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے رؤیا کا حوالہ دیا اور آخر میں کہا۔حضرت صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے اس پر بہت بسط سے لکھا ہے۔تم لکھ کر مجھے سنالو۔اس درس کے وقت قرآن مجید کھول کر سینہ پر رکھا اور چند منٹ اس کو دیکھتے رہے اور ورق الٹ کر غور کرتے رہے۔فرمایا۔آج مجھے بہت کمزوری رہی۔کمزوری میں لوگوںکو خیالات بہت اٹھتے ہیں مگر مجھے نہیں اٹھتے۔(ماخوذ از ایوان خلافت۔الحکم جلد۱۸ نمبر۲ مورخہ۷؍ مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ۶ ) استغفار پڑھنے کی تاکید آج ۱۱؍مارچ ۱۹۱۴ء صبح فرمایا کہ بات کرنے کے قابل ہوں۔استغفار بہت پڑھنے کا ارشاد کیا۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح الفضل جلد ۱ نمبر ۳۹ مورخہ ۱۱ ؍مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ۱) موت و حیات کی خبر حضرت امیر المؤمنین ہی کے الفاظ میں جو آپ نے ۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کو فرمائے۔موت و حیات کی کسی کو خبر نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے اور مجھے بھی خبر نہیں۔(ماخوذ از اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہیے۔الحکم جلد۱۸ نمبر ۳ مورخہ ۱۴ ؍مارچ ۱۹۱۴ء صفحہ۳ ) وفات سے قبل بیٹے کو نصائح اس (مدینۃ المسیح )عنوان کے ماتحت جس مقدس وجود کے حالات میں لکھا کرتاتھا اس نے ۱۳؍مارچ جمعہ کے روز نماز کے بعد وصال پایا۔اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہٗ وَاکْرِمْ نُزُلَـہٗ۔وفات سے پہلے آپ نے میاں عبد الحی کو بلایااور فرمایا۔