ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 379 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 379

شیعوں سے مباحثہ کے لئے جانے والے وفد کو نصائح بیس تاریخ بروز جمعہ مولوی سیدسرور شاہ صاحب میر محمد اسحق صاحب اور حافظ غلام رسول صاحب نے ایک مباحثہ کے لئے جانا تھا جو موضع مدرسہ کے احمدیوں اور شیعوں میں قرار پایا ہے۔مولوی صاحب اور حافظ صاحب رخصت کے لئے حاضر ہوئے۔فرمایا۔دعائیں بہت کرنا، دعائیں بہت کرنا۔یہ نیا مباحثہ ہے۔شیعوں سے پہلے ہمارا مباحثہ نہیں ہوا۔دعا سے کام زیادہ لینا اور آپس میں تبادلہ خیالات کرتے جانا۔شیعوں کے متعلق جو ہمارے اصول ہیں وہ تو آپ لوگوں کو معلوم ہوں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق کی نشانی ہے(التوبۃ:۷۴)۔انہوں نے اس بات کا ارادہ کیا جسے نہ پاسکے۔ہم تو نہیں مانتے کہ مولیٰ مرتضیٰ کو خلافت کی خواہش تھی لیکن اگر تھی تو انہوں نے بقول شیعوں کے وہ خواہش کی جو پوری نہ ہوئی اور ہم یہ بھی نہیں مانتے کہ حضرت ابوبکر نے خلافت کی خواہش کی لیکن اگر شیعوں کے نزدیک انہوں نے خواہش کی اور ان کی وہ خواہش پوری ہوگئی اور ھَمُّوْا بِمَا نَالُوْا ہوگئے۔پس وہ منافق نہیں ہوسکتے کیونکہ جو انہوں نے چاہا ان کو مل گیا اور منافق تو  ہوتے ہیں۔پھر فرمایا کہ ہمیں اہل بیت سے بھی محبت ہے۔اہل بیت میں پہلے بیویاں ہیں پھر اولاد۔پھر فرمایا کہ میر محمد اسحق صاحب نہیں آئے (ان کو بلوایا گیا)۔آپ نے سب کے لئے دعا کی اور ان کو کہا کہ آپ ان سب میں نوجوان ہیں آپ کی کامیابی پر ہمیں بہت خوشی ہوگی۔یہ لوگ بھی تقریروں کے عادی ہوتے ہیں اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہیں۔آپ بے شک سختی سے کہہ دیں کہ ہم ان باتوں کو نہیں جانتے۔اصل مطلب پر گفتگو کرو۔پھر فرمایا کہ ناکامیوں میں ہی کامیابی پوشیدہ ہوتی ہے۔اس کے بعد دعا فرما کر رخصت کیا۔مہمانوں کا خیال بروز ہفتہ کچھ مہمانوں کو دیکھ کر فرمایا کہ حدیث میں آیا ہے۔اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نُّنَزِّلَ النَّاسَ