ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 378
بیوی صاحبہ سے گفتگو اور نصیحت والدہ صاحبہ میاں عبدالحئی نے کہا۔مولوی صاحب کیسی طبیعت ہے فرمایا کہ اچھی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ پھر آپ بولتے کیوں نہیں چپ کیوں لیٹے رہتے ہیں؟ فرمایا۔حلق خشک ہوجاتا ہے۔پھر فرمایا کہ بیوی، اللہ تعالیٰ سے صلح کر لو۔چونکہ آپ کی آواز میں رقت تھی والدہ صاحبہ میاں عبدالحئی نے عرض کیاکہ مولوی صاحب آپ تو لوگوں کو تسلی دلایا کرتے ہو اب آپ خود گھبراتے ہو۔فرمایا کہ میں گھبرایا نہیں میں کبھی نہیں گھبراتا۔میں موت سے نہیں ڈرتا میں خدا سے ڈرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا ڈر نہایت عمدہ بات ہے۔خدا خوش ہوجائے تو سب کچھ مل جاتا ہے۔دوپہرکے وقت آپ نے فرمایا کہ مرزا صاحب (مرزا یعقوب بیگ صاحب) آپ کو دیکھ کر مجھے شرم آتی ہے۔یوں تو اس بیماری کے دنوں میں بہت سے ڈاکٹر وقتاً فوقتاً آتے رہے ہیں۔مگر مرزا یعقوب بیگ صاحب قریباً پندرہ دنوں سے برابر آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں اور ڈاکٹر رشید الدین صاحب اور آپ کا ہی علاج ہورہا ہے۔ہزار سال عمر آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر کوئی قرآن شریف کا اشد مخالف آریہ تیرے پاس آکر کہے کہ ہزار سال کی عمر تو نا ممکن ہے۔قرآن شریف میں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہو سکتاہے۔تو اسے کہو تُو اعتراض کرتا ہے۔تو خدا تعالیٰ اب بھی قادر ہے کہ تجھے ہزار سال عمر دے اور اگر وہ انکار کرے تو اسے میں ہزار سال تک زندہ رکھوں گا اور وہ عمر طبعی کے ایسی خطرناک ارذل العمر میں گرفتار ہوگا کہ باقی عرصہ نہایت دکھ میں کاٹے گا۔کیونکہ اس نے ہماری بات کا انکار کیا۔پھر فرمایا کہ ہر زمانہ کے مطابق عمریں بھی ہوتی ہیں۔اب تو دو سو سال تک پہنچنا انسان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔اب اگر زیادہ عمر ہوتو آدمی سخت تکلیف اٹھائے۔