ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 380 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 380

مَنَازِلَہُمْ(صحیح مسلم مقدمۃ الامام مسلم ؒ)۔(ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ لوگوں کو ان کے درجوں کے مطابق اتاریں) میں تو بیمار ہوں۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس بیماری میں بھی مہمانوں کا اس قدر خیال رہتا ہے۔(ماخوذ از کلام امیر۔الفضل جلد۱ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۵ ؍ فروری ۱۹۱۴ء صفحہ ۱۶) حالت بیماری کے اشغال حضرت خلیفۃ المسیح ساری عمر بیکاری سے لوگوں کو منع کرتے رہے اور ہمیشہ تاکید فرماتے رہے ہیں کہ بیکار مت رہو۔بیماری کی حالت میںبھی آپ بیکار نہیں۔بعض وقت کام کرنے کا اس قدر جوش آپ کے دل میں اٹھتا ہے کہ محبت کے رنگ میں ڈاکٹروں کو کہہ دیتے ہیں ’’ یہ روکتے ہیں اور مجھے بولنے نہیں دیتے‘‘ جس روز یورپین ڈاکٹر آیا اور اس نے آکر آپ کا مزاج پوچھا تو فرمایا۔میں تو اچھا ہوں۔ڈاکٹر نے لٹا دیا ہے۔ڈاکٹر نے کہا کہ آپ بہت کام کرتے ہیں۔فرمایا۔خوب کام کرتا ہوں اور کر سکتا ہوں۔دن میں سات لیکچر دیتا رہا ہوں۔اس وقت بھی دماغ کام کررہا ہے اور لیکچر بناتا رہتا ہے۔اس کے بعد اس نے آپ کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھا اور کہا۔عجیب نبض۔موت کا کوئی غم اور خوف نہیں یورپین ڈاکٹر سے کلام کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ مجھے موت کا کوئی غم اورخوف نہیں۔قرآن مجید کا عشق ان بیماری کے ایام میں جبکہ طبی مشورہ نے آپ کی بیش قیمت زندگی اور مفید ونافع وجود کی خاطر تمام اشغال سے آپ کو روکا۔قرآن مجید کے درس و تدریس کا شغل بدستور جاری ہے۔مولوی محمد علی صاحب کے ترجمہ کو نہایت شوق اور توجہ سے سنتے ہیں اور اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے قلب میں حقائق و معارف کا ایک جوش دریا کی صورت میں امڈا آرہا ہے۔ایک دن کہنے لگے کہ