ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 357

ہجرت میں کئی ایک مشکلات ہیں۔اوّل مکان چاہئے، پھر کپڑا، خوراک اور دیگر ضروریاتِ انسانی۔حدیث میں آیا ہے اِنَّ شَأْنَ الْھِجْرَۃِ لَشَدِیْدٌ(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب المبائعۃ بعد فتح مکّۃ علی الاسلام والجھاد والخیر و بیان معنی لا ھجرۃ بعد الفتح)۔اس میں کئی قسم کے ابتلاء ہیں۔ہرایک کا کام نہیں کہ ہجرت کرے۔ہاں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو کوئی اللہ کی خاطر ہجرت کرے گا اسے زمین میں فراخی عطا ہوگی مگر اس کے واسطے عالی ہمت اور استقلال چاہئے۔کیا مسیح کو نہ ماننے والے مسلمان ہیں؟ ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ غیراحمدیوں کو مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں؟ فرمایا۔میرے خیال میں مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو مانے۔ایک شخص اگر مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو مدعی دو حال سے خالی نہیں، یا تو وہ جھوٹا ہے تب تو اس سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں اور اگر وہ سچا ہے تو اس کو نہ ماننے والا خدا تعالیٰ سے جنگ کرتا ہے۔خواجہ صاحب کو ایک خط عزیز فتح محمد ۲؍ جولائی کو جہاز پر سوار ہوگیا آپ اس سے بہ محبت کام کام لیں غرباء سے کام زیادہ نکلتا ہے کیونکہ ان کا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے نہ کہ اپنے علم اور لیاقت پر۔قرآن کریم بہت پڑھو اور سناؤ عجب کتاب ہے۔دعا، تضرع، توبہ، ہمت بلند اور استقلال سے کام لو۔لیور پول میں عبداللہ کوئیلم کے احباب میں سے کوئی ہوگا اس کا پتہ لو۔دعائیں بہت کرو۔دینی ذکر ضرور ہو فرمایا۔میرے ایک دوست تھے ان کا نام فضل اللہ تھا مکہ کے باشندے تھے۔ایک دفعہ میں نے ان کو ایک خط لکھا۔کتابوں کا مجھے بہت شوق تھا صرف کتابوں کے متعلق کچھ لکھ دیا اور وہ تاجر کتب بھی تھے میرا کام تو انہوں نے کردیا مگر بڑی شکایت کی کہ آپ نے پیسے بھی لگائے اور تحریر بھی کی مگر اس میں دین کا کوئی حصہ نہ ہو بہت افسوس ہے۔اس زمانہ سے لے کر کہ پرانا زمانہ ہے آج تک مجھے ایسا روکھا خط جس میں تذکرہ دین کا نہ ہو ناپسند ہوتا ہے اور وہ فضل اللہ مجھے یاد آجاتے ہیں۔مفقود الخبر کی بی بی کا نکاح سوال ہوا کہ ایک شخص تین سال سے مفقودالخبر ہے اور بی بی خرچ