ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 356 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 356

ہونے کے لیے خواجہ صاحب کی خدمت میں درخواست کی کہ میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ان کی اصل درخواست اس وقت راقم کے پاس موجود ہے۔اس پر خواجہ صاحب نے انہیں ہدایت کی، ہمارے سلسلہ کے امام حضرت خلیفۃ المسیح ہیں میں خود ان کے ہاتھ پر بکا ہوا ہوں آپ بھی ان کی خدمت میں بیعت کا خط تحریر کردیں۔چنانچہ انہوں نے خواجہ صاحب کی معرفت بیعت کا خط بھیجا ہے۔ان کے اشتیاق کو ظاہر کرنے کے لیے ان کے خط سے ناظرین کے لیے کچھ اقتباس پیش کرتا ہوں۔’’چند ماہ سے سخت اشتیاق تھا کہ میں جناب والا کی بیعت کا فخر ہندوستان پہنچ کر کروں گا مگر اب دل میں قرار باقی نہیں رہا کہ اپنی واپسی تک اس ثواب سے محروم رہوں۔جناب خواجہ صاحب کی خط و کتابت اور ان کے مضامین اور ان کے واحد مثال نے طبیعت میں ایک ایسی تڑپ پید اکردی ہے کہ طبیعت کو چین لینے نہیں دیتی اور اس کا درمان اسی میں ہے کہ جناب کی بیعت کا جتنی جلدی بھی فخر حاصل ہو اتنا ہی اس کمترین کے حفر میں بہتر ہوگا۔‘‘ اس پر حضرت خلیفۃ المسیحؑ نے ان کی طرف اپنے دست مبارک سے خط تحریر فرمایا ہے جس کی نقل ذیل میں ہے۔عزیز مکرم ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ آپ کے فرحت نامہ میں کوثر کا لفظ پڑھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام سے سچی محبت، قرآن کریم سے دلی تعلق اور اس کے فرمانوں پر چلنے کی پوری توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ صداقت، سچائی، ہمت بلند، استقلال بخشے۔بد صحبت، بری کتابوں سے بچائے۔بے استقلال انسان بابرکت نہیں ہوسکتا۔ثُمَّ اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَقَدْ فَازَ الْمُتَّقُوْنَ۔نورالدین بقلم خود ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء راقم صدرالدین ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء (ماخوذ از اخبار قادیان البدر جلد۱۴ نمبر ۱۳،۱۴ مؤرخہ ۱۶؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) ہجرت ایک صاحب نے ہجرت کا ارادہ ظاہر کیا۔حضرت نے انہیں فرمایا۔