ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 358
سے لاچار، کیاکرے؟ فرمایا۔قرآن شریف کی رو سے جائز ہے کہ اس کا نکاح اور کردیا جاوے۔ہاں قانون ملکی کے متعلق پہلے حکام کی معرفت فیصلہ کرلینا چاہئے۔(ماخوز از کلام امیر۔البدر جلد ۱۴ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۲) مناظرہ اور اس کے اصول مباحث کے متعلق ایک صحبت میں ارشاد کیا کہ اس بستی کے امراء شرفاء کا بیچ میں ہونا اور مجسٹریٹ کی اجازت اور پولیس کا انتظام اور تحریری مباحثہ اور پرچوں کی تعداد محدود اور اوقات کا تقرر اور پہلا پرچہ مخالف کا، یہ نہایت ضروری ہے۔یہ اصول مناظرہ میں نے قرآن مجید سے نکالے ہیں۔اور بالآخر دعا سے بہت کام لیا جائے اور کبھی اپنے علم پر گھمنڈ نہ ہو اور ہار جیت و شہرت کا منشاء بلکہ محض احقاق حق للہ فی اللہ گفتگو کی جائے۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۲۰ مورخہ ۲۹ ؍ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) احباب کے اصلاح اعمال کی فکر آپ نے دو تین بار فرمایا کہ تم خود ہی بتائو میں تمہیںکس طریق سے سمجھائوں کہ تمہارے اعمال کتاب و سنت کے مطابق ہوجائیں۔اس پُردرد فقرہ سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آپ کو ہماری اصلاح کا کہاں تک خیال ہے۔آپ جمعرات ۳۰؍ اکتوبر کو دارالعلوم میں ٹانگہ پر تشریف لے گئے۔پہلے مولوی شیر علی صاحب بی اے کے مکان کی بنیاد رکھی۔دو اینٹیں خود اپنے دست مبارک سے اور تیسری صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ سے۔پھر مدرسہ و دارالمقام کی عمارت کا ملاحظہ فرمایا۔کرکٹ کھیلنے کے لئے مالی مدد کرنے کا اظہار لڑکوں کے بہت سے کھیل دیکھے اورفرمایا۔کرکٹ کیوں نہیںکھیلتے۔ہم اس میں روپیہ دیں گے۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۲۱ مورخہ ۵ ؍ نومبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) اصلاح احباب اور تعلیم القرآن کی فکر ۶؍ نومبر ۱۹۱۳ء کو فرمایا۔