ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 334
وقت فرصت دیکھا جاوے۔وہ استاد صاحب تو گھبرائے مگر میں نے انہیں کہا کہ چند روز دیکھو اور اس کے مکان پر جاتے رہو۔خیر وہ جاتے رہے آخر شاگرد صاحب نے خود ہی مجھے کہا کہ میں ایسے لوگوں سے نہیں پڑھ سکتا۔یہ تکبر کا حال ہے حالانکہ یہ لوگ اس لائق نہیں کہ تکبر کریں۔بت پرستی سے بچو فرمایا۔بت پرستی کی جڑھ ہے بے جا محبت۔کوئی تو رنگ و روغن پر مرتا ہے، جہاں کوئی خوبصورت شکل دیکھی بس عاشق ہوگئے۔اور بعض لوگ دینی رنگ میں اس محبت میں غلو کرتے ہیں مرزا صاحب کی تصویر ہوئی یا نورالدین کی یا خواجہ تونسوی کی یا کسی اپنے مرشد کی، اس کی تعظیم کرنے لگے۔رفتہ رفتہ بات دور چلی گئی اور وہی بت بن گیا۔میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ سیال شریف کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا تھا کیونکہ وہاں کے بزرگوں کا مرید تھا۔کہنے لگا کہ ہمیں تو ادھر ہی سے سب کچھ ملا ہے۔میں نے کہا قرآن شریف میں آیا ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف نماز میں منہ کا حکم اس واسطے ہے کہ (البقرۃ :۱۴۴) تاکہ ظاہر ہو جاوے کہ رسول کی پیروی کون کرتا ہے۔جو شخص اور طرف منہ کرتا ہے وہ رسول کا پیرو نہیں۔کہنے لگا یہ ملّاں لوگوں کی باتیں ہیں میں نہیں جانتا۔خانہ کعبہ سے جب بت نکالے گئے تو ان میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل کے بت بھی تھے اور اس مینڈھے کے سینگ بھی رکھے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب ہی باہر پھنکوادیئے۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۴ نمبر۴ مؤرخہ ۷؍ اگست۱۹۱۳ء صفحہ۳) میری بات نہ بھلائو فرمایا۔امن و خوف کی جو بات تم کو پہنچے اسے ایسے لوگوں تک پہنچاؤ جو اس کے اہل ہوں۔بعض لوگوں کی عادت ہے کہ کسی کے متعلق کوئی زنا کی تہمت سنی فوراً لوگوں میں مشہور کرنے لگ گیا۔ایسے لوگوں کو قرآن شریف نے شیطان کہا ہے۔ایڈیٹر بھی فساد کی باتوں کو پھیلانے اور شر پیدا کرنے میں بہت حصہ لیتے ہیں۔بعض تو اپنے اندر خدائی کا مادہ سمجھتے ہیں کہ ہم یہ کر دکھائیں گے اور وہ کر دکھائیں گے۔