ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 335 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 335

بڑے اصول فرمایا۔بڑے اصول میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کا مال ناحق نہ کھاؤ اپنے معاملہ کی صفائی رکھو۔بعض چور تورات کو نقب لگاتے ہیں مگر بعض دن کے چور ہیں جو تاڑتے رہتے ہیں کہ کس کے پاس روپیہ ہے۔پھر روپیہ والے سے روپیہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔قرض لیں یا تجارت کے بہانہ سے وصول کریں، لے لیتے ہیں اور پھر دینے کا نام نہیںلیتے۔ایسے لوگ دن کے ڈاکو ہیں۔آج کل کے مسلمان فرمایا۔آج کل کے مسلمان اکثر جھوٹے، بد عہد اور بدمعاملہ ہیں۔مفلس اور سست پن۔کام کرنا نہیں چاہتے مگر ساتھ ہی تکبر اور فضول خرچ بھی ہیں۔لباس اور خوراک اور عمدہ مکان بھی مانگتے ہیں مگر آمدنی کے ذرائع حاصل نہیں کرتے۔نادان ہیں ناصح کی نصیحت کو نہیں مانتے اور اپنے آپ کو افلاطون سے بڑھ کردانا گمان کرتے ہیں۔ضروری بحث فرمایا۔لوگ اس قسم کے سوالات بہت شوق سے کرتے ہیں کہ آدم پہلے تھا یا ّحوا پہلے تھی۔نوح کی کشتی کتنی چوڑی تھی حالانکہ ان سوالات پر بحث کرنے کا نتیجہ انسان کے واسطے مفید نہیں۔چاہئے کہ انسان ان باتوں پر غور کرے جن سے اس کے نفس کی پاکیزگی کے وسائل پیدا ہوں۔انسان کے واسطے یہ باتیں قابل غور ہیں کہ وہ اپنے نفس، زبان، شرمگاہ، خواہشات غضب، سستی پر کیونکر غالب آسکتا ہے۔اللہ کس طرح راضی ہو ایک شخص نے عرض کی کہ اللہ کس طرح راضی ہوتا ہے۔حضرتخلیفۃ المسیح نے جواب میں تحریر فرمایا۔اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے اور حضرت نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے اللہ خوش ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ارشاد ہے (البقرۃ :۳۹)۔(ترجمہ) جس کسی نے میری ہدایت کی پیروی کی اس پر نہ کوئی خوف ہے نہ غم ہے۔اور فرماتا ہے۔