ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 315
آدم، ابراہیم، داؤد، سلیمان، یوسف، موسیٰ اور عیسیٰ کے دشمن ہوئے۔ابلیس، شیطان، نمرود و آزر، رحبعام،ساؤل، یوسف کے بھائی، فرعون اور یافا۔ہمارے سید ومولا خاتم النبیین رسول ربّ العلمین، شفیع یوم الدین صلی اللہ علیہ وآلہٖ اجمعین کے اعداء، ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ربیعہ، عقبہ، ابی، ابی بن سلول، ولید وغیرہ وغیرہ۔کیا خلفاء کے دشمن نہ ہوں؟ عجب، عجب، اعجب۔مسلمانوں کے ہندو، عیسائی، مسیحی، یہودی دشمن بلکہ ملتان میں مقلد و غیرمقلدوں کے شیعہ و خوارج۔بل کوئی مومن دشمن سے خالی نہیں۔ایک خلیفہ کے وقت تمام عرب سوائے مکہ و مدینہ وحواثیٰ کے دشمن۔اسود عنسی، مسیلمہ وغیرہ جن میں بعض تو بالکل جاہلیت میں چلے گئے۔بعض نے اپنے اپنے نبی بنائے۔بعض زکوٰۃ کے منکر بھی تھے۔بعض زکوٰۃ کو مدینہ میں بھیجنے کے منکر ہوگئے۔مولانا ! کوئی مومن دشمن سے خالی نہیں رہا نہ رہے گا۔مرے جیتے کے ہزاروں دشمن ہیں۔ایسی صاف بات قدرت الٰہیہ ہے بحث کے نیچے آگئی۔اللہ اللہ تمام عرب میں مخالفت و ارتداد۔آپ فرماتے ہیں مخالف کون؟ سنیئے ایک تو وہ تھے جن کی ایک عورت مولیٰ مرتضیٰ کو ملی۔حنیفہ اس کا نام محمد بن علی علیہما السلام کی ماں۔دوسرے کے عہد میں ایران وعراق و شام ومصر اعدا سے بھرا پڑا تھا۔تیسرے کے دشمن تمام خوارج تھے۔چوتھے کے اعداء، شیعہ ملتان سے پوچھ لیجیئے۔ایسی سیدھی ظاہر صاف بات پر آپ کا سوال حیرت ہے۔ہاں آپ کی طرز تحریر سے یہ بات مجھے ثابت ہوگئی ہے آپ جواب الجواب میں کسی قدر مقابلہ مدنظر رکھتے ہیں۔مولانا ! خلیفہ بنانا میرے نزدیک صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پھر ابوبکر کو مولٰنا کیا ضرورت پڑی کہ آیت استخلاف سے استدلال کرتا۔میںبہت بار عرض کرچکا ہوں اجتماع کیا ہوتا ہے۔ذرہ سنّی شیعہ خوارج کے اصول میں