ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 316 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 316

اجماع کی تعریف تو سنوآپ کو ہنسی آجائے گی۔اجماع اس زمانہ کا ایک ہوا ہے اس کا باربار ذکر حیرت بخش ہے۔(۱)مولانا ! خاص عام کا فرد ہوتاہے۔(۲) (المائدۃ :۲۱) میں کم اور ملوک جمع کیا خاص ہے؟ اس پر مکرر نظر فرمانا ضروری ہے۔جمع کے الفاظ کو خاص کہنا؟ بادشاہ مولانا ! (النور :۵۶) میں سزا اور جزا کا کون سا کلمہ ہے اس پر توجہ ہو۔آپ توریت کو پڑھ لیتے۔اگر موقع نہ تھا تو قرآن کو پڑھ لیتے جہاں کے ساتھ (المائدۃ:۶۲) لگا ہوا ہے تو کبھی نہ لکھتے کہ ہر فرد بشر پر موسیٰ کے زمانہ میں وعدہ پورا ہوا۔حضرت مولٰنا!موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام، قارون اور اس کا سارا کنبہ اور جو لوگ (البقرۃ:۶۲)کے مخاطب ہوئے ایک بھی ارض موعود پر نہ پہنچا۔صرف دو آدمی جو میرے مطلب کو حل کرگئے۔میں اللہ تعالیٰ کے محض فضل سے مذاہب پر آگہی رکھتا ہوں۔آپ نے بے وجہ یہاں اللہ تعالیٰ کے عادل نام پر توجہ فرمائی ہے۔مولانا ! عادل نام اللہ تعالیٰ کا کس قرآن کریم اور کس حدیث مسلّم میں ہے۔اس لفظ کی جڑھ کیا ہے اور کب نکلا۔کیوں نکلا۔کس تفسیر میں اس پر زور ہے۔مجھے معلوم ہے وَا۔آپ لفظ الربّ، الرحمٰن، الرحیم پر زور دیتے ہیں۔یہ طریق کہ میں نے اصل بحث کو کس قدر مدنظر رکھا ہے اور شخصی جھگڑا پسند نہیں کیا۔مگر اس طریق بحث سے چونکہ اب تک کہیں آپ ہاتھ نہیں ڈال سکے آپ نے مجھے طعنہ دیا ہے۔میں گھبراتا نہیں، وسیع الحوصلہ ہوں۔ہاں دل چاہتا ہے آپ کا حرج بھی نہیں۔آپ ضرور ایک بار مجھے ملیں۔مجھے نہ تعصب نہ ہٹ۔نہ کسی کا اللہ کے سوا خوف! تاریخ کی خوب کہی۔کیا شیعہ کی تاریخ ،خوارج کی تاریخ، سنیوں کی؟ نورالدین