ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 314

تاکہ برہنگی پا کسی پر ظاہر نہ ہو۔وہ بہت مخلص مرید تھا اس نے پتہ لگانا چاہا کہ وجہ کیا ہے اور جو معلوم ہوا تو بے اختیار رو پڑا۔تب حضرت نے ایک شعر کہا ؎ ہزار حیف کہ گل کرد بینوائی من بہ چشم آبلہ کردہ برہنہ پائی من نصیحت برادر مکرم منشی فرزند علی کو حضرت خلیفۃ المسیح نے ۲۰؍ اپریل کی صبح بوقت رخصت مفصلہ ذیل نصیحت لکھ کر دی۔اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَقَدْ فَازَ الْمُتَّقُوْنَ وَ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ۔قرآن مجید پڑھو اور اس کا تدبر کرتے رہو، دعائیں مانگو ، قرآن کریم پر عمل کرتے رہو، قرآن کریم خلقت کو پہنچاؤ۔مرزا صاحب کی کتابیں ہمیشہ مدنظر رہیں، مخلوق کے ساتھ خوش معاملگی ہو، افسروں کو ناراض مت رکھو۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر۱۰و۱۱مؤرخہ ۱۵؍ مئی ۱۹۱۳ء صفحہ۲۷،۲۸) ایک شیعہ کے خط کا جواب مولانا! السلام علیکم ۱۔جناب ایک ماہ کامل گھر سے باہر رہے کیا ہی پسندیدہ بات ہوتی کہ اس میں قادیان دیکھ لیتے۔خاکسار ضرور آمد و رفت اور کچھ زائد نذر کردیتا اور اب بھی یہاں جناب کو انشاء اللہ تعالیٰ کچھ ضرر نہ پہنچتا۔۲۔غور فرمایئے اللہ تعالیٰ کے دشمن،ملائکہ کے دشمن،جبرائیل و میکائیل کے دشمن ہوئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (البقرۃ:۹۹)