ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 304
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تھی اور اس کا علم حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ کو ہو سکتا ہے اور کسی کو نہیں ہوسکتا۔اس پر غورکرو۔اسلام کے انتظام میں بظاہر پہلا نمبر ابوبکر کا ہے رضی اللہ عنہ۔پھر عمر کا رضی اللہ عنہ۔پھر عثمان کا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مگر ان کے اس ظاہری انتظام سے وارء الوراء ان کے پاک تعلقات ہیں جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رکھتے تھے اور وہ تعلقات انسانی فہم سے بالاتر ہیں۔اگر جناب ابوبکر نے فتنے کو فرو کیا تھا، امن قائم کیا، اپنی چھوٹی سی لڑکی نبی کریم کے آرام کے لیے بیاہ دی تو جناب امیر کے ذریعہ سے اولیاء کرام نے جو کام کئے وہ تھوڑے نہیں اور مسلّم ہیں۔(۳) حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے عقائد اصولی اور خصوصی وہی تھے جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں موجود ہیں۔قرآن جو محفوظ ہی ہے مرزا صاحب کے پاس تھا اور حدیث کی کتابوں میں وہ بخاری کو اَور کتابوں پر ترجیح دیتے تھے۔انہیں دو کتابوں میں اصول اسلام درج ہیں۔تعجب ہے کہ مرزا صاحب نے پچاسی کتابیں لکھی ہیں اور آپ نے ان کا مطالعہ نہیں کیا کہ آپ کو معلوم ہوجاتا کہ مرزا صاحب نے کن معنوں میں مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔مختصراً مرزا صاحب نے خود فرمایا ہے۔؎ چوں مرا نورے پئے قوم مسیحی دادہ اند مصلحت را ابن مریم نام من بنہادہ اند اللہ اور ملائکہ اور نبی نے ان کو انہیں معنوں میں مسیح کہا ہے۔بیرونی فسادوں کے روکنے کے واسطے وہ مسیح تھے اور اندرونی جھگڑوں کے دور کرنے میں انہوں نے مہدی کا کام دیا اور آریہ کے واسطے کرشن تھے۔(۴) ہم اپنے آپ کو اہل سنت والجماعت یقین کرتے ہیں اور اس کا بڑا ثبوت ہمارے پاس یہ ہے کہ قرآن و سنت کو ہم نے اپنا امام و مقتدامانا ہے اور یہ ایک جماعت ہے جو ایک امام کے ماتحت ہے۔باقی لوگ کہ وہ کسی ایک امام کے ماتحت نہیںہیں نہ ان کے پاس کوئی سنت مسلّم اور نہ