ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 289
کبیرہ ہے۔مثال یہ ہے کہ کسی نے ایک عورت کو بدنظری سے ایک دفعہ دیکھا پھر مکرر ، سہ کرر دیکھا۔پھر کسی دوست سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ پہلے آنکھ کا گناہ تھا اب زبان کا ہوگیا، جواب سننے سے کان کا ہوگیا۔پھر پوچھتا ہے کہ یہ کس طرح ملتی ہے؟ وہ کوئی عورت بتائے گا۔پھر ادھر چلے گا یہ پاؤں کا گناہ ہوگیا۔اس کو ماں بہن بناکر روپے رکھے گا۔اب ہاتھ کا اور مال کا گناہ ہوگیا۔اسی طرح بڑھتا جاوے گا۔اگر اب یہ کامیاب ہوگا اور بدکاریاس کے آخری فیصلہ کا وقت ہے یہ آخری فیصلہ کبیرہ ہوگا۔اگر اللہ کریم اس پر رحم کرے اور وہ خدا کاخوف کرکے قبل از ارتکاب ہٹ جاوے تو وہ جو ابتدائی کام کیا گیا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ (النساء:۳۲) وہ ہم معاف کردیں گے۔اس دعوے کی دلیل میں ایک واقعہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص اپنی چچا زاد ہمشیرہ پر عاشق ہوگیا تھا اورسو پونڈ اس کو دیئے۔جب بدی پر تیار ہوئے تو عورت نے کہا کہ اگر تم اب ربّ سے ڈر جاؤ تو ہم بدی سے بچ سکتے ہیں۔چنانچہ وہ باز رہے اور اللہ نے ان کے پچھلے ابتدائی گناہوں سے درگزر فرمایا۔اب اس طرح سے وہ کبیرہ صغیرہ کا جھگڑا ہی نہ رہا۔رہی وہ بات کہ جس نے کبیرہ کیا ہے اس کی پہلی کارروائیاں معاف نہیںہوسکتیں کیونکہ وہ کبیرہ سے ٹلا نہیں۔سو اس آیت میں صرف یہی صورت مذکور ہے جو بیان کی گئی ہے۔البتہ عام کبیروں اور صغیروں کا فیصلہ یہ ہے۔(النساء :۱۱۷) (ترجمہ) تحقیق اللہ نہیں بخشتا اس بات کو کہ شرک کیا جائے ساتھ اس کے اور بخشے گا ما سوائے اس کے جس کو چاہے گا۔اور جگہ فرمایا۔(الفرقان:۷۲) (ترجمہ)اور جو شخص توبہ کرے اور عمل اچھے کرے پس تحقیق وہ رجوع کرتا ہے اللہ کی طرف پورا پورا۔ایک میرے ایک میرے پیر نے گناہوں سے بچنے کا قاعدہ بتایا تھا۔میں اس کا عمل کررہا تھا ایک دفعہ دوپہر کو سوگیا اٹھا تو جماعت ہوگئی تھی۔میرا خون خشک ہوگیا کہ گویا میںہلاک ہوگیا ہوں۔مدینہ کے ایک دروازہ پر لکھا ہے کہ