ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 288 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 288

اللہ تعالیٰ تم کو معاملہ کی توفیق دے اور کامیاب واپس لاوے۔جمعہ مبارک ہو۔والسلام دعا گو نورالدین ۵ ؍نومبر ۱۹۱۲ء (ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۳ نمبر۳؍مؤرخہ ۲۰؍ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ۳،۴) ملفوظات حضرت خلیفۃ المسیح (محررہ خاکسار محمد عبداللہ عفی عنہ بوتالوی) کبیرہ اور صغیرہ گناہ کے احکام   (النساء:۳۲)ترجمہ۔اگر تم ہٹ جاؤ گے بڑے گناہوں سے جن سے تم روکے گئے ہو معاف کردیں گے ہم تمہارے چھوٹے گناہ اور داخل کریں گے ہم عزت کے مقام میں۔یہ ایک مسئلہ ہے جس میں جھگڑے کرتے تیرہ سو برس گزر گئے۔لوگ کہتے ہیں کہ مسئلہ حل ہو ہی نہیں سکتا۔پہلے جھگڑا یہ کیا ہے کہ کبیرہ گناہ کس کو کہتے ہیں۔پھر اگر کبیرہ گناہ کا فیصلہ ہوجاوے تو پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ بخشا جاوے گا یا نہیں۔پھر یہ کہ کبیرہ گناہ والا کافر کے برابر ہوتا ہے یا نہیں۔یہ بحث صحابہ کے وقت ہی شریر لوگوں نے چھیڑ دی تھی۔مجھے اللہ کے فضل سے مذہب کے ساتھ ایک خاص تعلق دیا گیا ہے۔ہم آپ کو سناتے ہیں اللہ نے ہم پر کھول دیا ہے۔ان لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لیا ہے کہ اگر تم اجتناب کرو کبیرہ گناہوں سے تب ہم معاف کردیں گے دوسرے گناہ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ہم توبہ سے معاف کرتے ہیں۔ایک جگہ فرمایا ہے کہ ہم گناہ معاف کرتے ہیں۔اصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو بدی، بدکاری، شرارت، اللہ کی نافرمانی ہے یہ سب گناہ پہلے ادنیٰ سیڑھی سے شروع ہوتے ہیں پھر وہ اس میں ترقی کرتا جاتا ہے اس کی آخری حالت