ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 272
نماز کس واسطے پڑھی جاتی ہے ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں خط لکھا کہ مجھے نماز میں لذت نہیں آتی۔حضرت نے جواب میں فرمایا۔نماز ایک حکم ہے اس کی تعمیل ضروری ہے، لذت حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ فرمانبرداری کے واسطے۔اگر لذت والی شے ہوتی تو ہر ایک اس کو کرتا اور لذت لینے کے لئے کرتا۔پھر ثواب کہاں سے حاصل ہوتا۔ارشاد الٰہی کی تعمیل انسان کے واسطے ضروری ہے۔مالک راضی ہوگیا تو سارے جہان کے نفعے اس میں آجاتے ہیں۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد ۱۲ نمبر۳۱ تا ۳۳ مؤرخہ ۲۷؍ فروری ۱۹۱۳ء صفحہ۹ تا ۱۲) مکتوبات امام ربّانی حضرت خلیفۃ المسیح اس کتاب کے متعلق فرماتے ہیں۔بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمد ہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم وآلہٖ مع التّسلیم خدا تعالیٰ کے بڑے احسانات اور اس کے کرم اور غریب نوازی اور رحمت سے آج کل بہت بڑی رحمت کا ظہور یہ ہے کہ علمی جماعت کے لیے اوّل کاغذ کا میسر ہونا پھر مطابع کا ہونا اس پر محکمہ ڈاک تار اور ریلوے کا کارخانہ اس پر عام طور پر یا نسبتاً آرام اور سلطنت کی توسیع کے بڑے بڑے مخازن کا ظہور ہورہا ہے۔حضرت شیخ المشائخ حضرت مجدّد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات کا شائع ہونا ہرچند نقشبندی سلسلہ کے لیے خاص فضل ہے۔پھر اس کا اردو ترجمہ فضل کے اوپر فضل ہے۔اس کی چھپائی اور تحریر اور کاغذنہایت ہی پسندیدہ ہے تقطیع بھی بہت دلربا ہے۔اس پر قیمت بھیبہت تھوڑی ہے۔میں نقشبندی احباب کے لیے بابرکت سمجھتا ہوں۔چونکہ مجھے اس سلسلہ میں بھی بیعت کا شرف حاصل ہے اس لیے اس نعمت کی قدر خوب سمجھتا ہوں۔نورالدین ۲۴؍ مئی ۱۹۱۳ء (ماخوذ از اخبار قادیان۔البدر جلد ۱۲ نمبر ۳۱و۳۲ و ۳۳ مؤرخہ ۲۷؍ فروری ۱۹۱۳ء صفحہ۲۰)