ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 271 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 271

بات کی تو ہم کو کوئی پرواہ نہیں کہ کوئی ہمارا مرید بنے۔اگر کوئی بیعت کرے تو اپنے لیے اور سچ کے لیے کرے نہ ہمارے لیے۔ہاں ہم اظہار حق کے لیے یہ بات کہتے ہیں اور اخبار میں بھی چھپوادیتے ہیں کہ آپ اور سب لوگ جان لیں اور یقین کرلیں کہ نہ ہمارا نہ کسی احمدی کا یہ عقیدہ ہے کہ معاذاللہ حضرت مرزا صاحب حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے فرمانبردار اور تابعدار اور خادم ہیں۔احمدیوں اور غیراحمدیوں میں جو فرق ہے اس کے متعلق ایک رسالہ ارسال ہے جو ابھی چھپا ہے۔ہماری ناراضگی کی وجہ بھی یہی تھی کہ آپ نے کسی ناواقف سے کچھ سنا اور ایسا ایسا لکھ دیا۔کعبۃ اللہ میں دعا کے متعلق جو آپ نے لکھا ہے، ہم کعبۃ اللہ میں دعا کرنے اور کرانے کی قدر آپ سے زیادہ کرتے ہیں۔وہاں کی دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے ایک دعائیہ مضمون لکھ کر کاتب خط ہذا کے والد حاجی منشی احمد جان صاحب کو دیا تھا کہ بیت اللہ میں جاکر یہ دعا ہمارے لیے کرنا۔حاجی صاحب موصوف وہ خط امانتاً اپنے ساتھ لے گئے اور عرفات میں جاکر وہ دعا کی۔کاتب خط۱؎ ہذا بھی ان کے ساتھ موجود تھے جس وقت وہ دعائیہ خط پڑھا گیا اور دعا کی گئی۔ہمارے دوست حج کو جاتے ہیں اور اب بھی گئے ہوئے ہیں۔میرناصر نواب صاحب حضرت صاحب کے خسر اور میاں محمود احمد آپ کے بیٹے بھی گئے ہیں ان کا بڑا کام دعا ہی ہے۔وہاں انہوں نے دعائیں بھی کیں ہیں۔ہم بیت اللہ میں اور حج میں دعا کی بہت قدر کرتے ہیں۔والسلام ۲۷؍نومبر۱۹۱۲ء ۱؎ شہادت افتخار احمد از قادیان کاتب خط ہٰذا بفضل اللہ تعالیٰ میں اس وقت جب کہ میرے والد عرفات کے میدان میں حضرت صاحب کے اس حکم کی ادائیگی کے لیے کھڑے ہوئے اور دعا مانگنی شروع کی موجود تھا۔میرے والد دعا کے الفاظ کہتے جاتے تھے اور ہم بیس کے قریب جو آدمی ان کے ساتھ حج کو گئے تھے آمین کہتے جاتے تھے۔والسلام افتخار احمد