ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 273 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 273

اشاعت رسالہ کے لئے احباب کو خواجہ صاحب کی اعانت کی تحریک بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ احباب و اہل اسلام اس چٹھی پر غور فرماویں ایک دردمند دل کی تحریر ہے دردمند دل سے پڑھو۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ پوری توجہ کریں۔تین ہزار ایک پرچہ کے لیے، زیادہ نہیں، چاہو خریدار بنو چاہو امدادی رنگ میں دو، جس طرح ہو خوا جہ صاحب کی ہمت بڑھاؤ۔ (الحج :۴۱)۔والسلام نورالدین عفی اللہ عنہ ۲۶؍ فروری ۱۹۱۳ء (البدر جلد۱۳ نمبر۱ مؤرخہ ۶؍ مارچ ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) ایک شخص کے چند سوالوں کے جوابات کبیرہ سوال نمبر۱۔بروئے قرآن کریم کبائر کیا کیا ہیں؟ جواب۔ہر ایک بدی کی ایک ابتدا ہوتی ہے ایک اوسط ہوتا ہے اور ایک انتہا ہوتا ہے۔انتہا کو کبیرہ کہتے ہیں۔جو شخص ابتدا اور اوسط کا مرتکب ہوجائے اور انتہا سے بچ جائے اس کا گناہ بخشا جاتا ہے۔(النساء :۳۲) میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔مثلاً ایک شخص نے کسی کا مال دیکھا اس کے دل میںلالچ پیدا ہوا کہ اس کا مال چوری کروں۔یہ چوری کا ابتدا ہے۔اس نے اس کے گھر میں داخل ہونے کے وسائل پیدا کیے اور داخل ہوا، یہ اوسط ہے۔اب باقی رہا مال کو لے کر چلے آنا، یہ انتہا ہے اور اس کا نام کبیرہ ہے۔اگر اس وقت اس کے دل میں خشیت اللہ پیدا ہو اور وہ چوری کا مال نہ لے اور اپنے پہلے خیال اور دخل پر پشیمان ہو کر چلا آئے تو اس کبیرہ کا ارتکاب نہ کرنے کے سبب اس گناہ کا ابتدا اور اوسط اسے معاف ہوجائے گا۔قرآن شریف نے کبائر کی کوئی تعداد مقرر نہیں