ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 254
کہ قربانی کے بدلہ روپیہ دیا جاوے۔زمانہ کی حالت اور ہوا اور خیالات گریجویٹ لوگوں سے اور ان کی عقول سے بے خبر نہیں۔جن پر قربانی ضرور ہے وہ علاوہ اس کے روپیہ وہاں بھیج سکتے ہیں۔نورالدین قادیان ۷ ؍نومبر ۱۹۱۲ء (الحکم جلد۱۶ نمبر۳۵ مورخہ ۱۴ ؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۶۔الف) ترکوں کی امداد میں قربانی کی قربانی جیسا کہ الحکم کی گزشتہ اشاعت میں میں نے لکھا تھا کہ بعض جگہ یہ تحریکیںہورہی ہیں کہ ترکوں کی امداد میں قربانی کا روپیہ بجائے قربانی کرنے کے بھیج دیا جاوے۔میں نے اس خیال کی مخالفت کی تھی اور بتایا تھا کہ شعائر اسلام کسی حالت میں ترک نہیں ہونے چاہئیں۔مجھے افسوس ہے کہ مسلمان اس لہر میں بے طرح بہہ رہے ہیں۔ایک ہم عصر لکھتا ہے کہ ’’نماز اور حج سے بھی بڑھ کر بڑا فرض ترکوں کی مدد ہے۔‘‘ تعجب کا مقام ہے کہ اوائل اسلام میں جبکہ صحابہ اپنے خون سے اسلام کی شہادت عرب کے ریگزارمیں دے رہے تھے تو ان ساعات عسر میں تلواروں کے سایہ کے نیچے بھی نمازکا فرض متروک نہیں ہوا۔آج اس قسم کے الفاظ قوم میں مذہبی روح پھونکیں گے یا محض جوش ہی پیدا کریں گے۔بہرحال میں نے بزور لکھا تھا کہ قربانی کی سنت متروک نہیں ہونی چاہئے۔ترکوں کی مدد کا سوال الگ ہے اس کو قربانی کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔الحکم کی اس اشاعت کے بعد ہمارے ایک معزز بھائی نے لاہور سے حضرت خلیفۃ المسیح ؓ کے حضور ایک خط لکھا۔اس کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح ؓ نے جو خط لکھا ہے اس میں اس مسئلہ کی بھی آپ نے وضاحت فرمائی ہے۔اور یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ جو امر چند روز قبل الحکم نے قوم کے سامنے رکھا تھا حضرت امام نے اس کی تائید اور تصدیق فرمائی۔آپ نے لکھا ہے۔’’حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بڑی ضرورتیں تھیں۔خلفاء ؓ کے زمانہ میں سخت سے سخت ضرورتیں تھیں، قربانی ترک نہیں کی گئی۔شیعہ کے مذہب کے بھی خلاف ہے۔باقی رہا (الحج:۳۸) کا فرمان صحیح ہے مگر جس طرح شیعہ عالم نے سمجھا ہے اس