ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 253
یہ قرآن شریف تم کو دوں گا۔فرمایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف کو ہمیشہ صاف ہاتھوں سے پکڑنا چاہئے۔قومی تاریخ فرمایا۔جب کسی قوم کو اپنی تاریخ بھول جاتی ہے تو غیرت اٹھ جاتی ہے۔اب مسلمانوں کواپنی تاریخ بھول گئی ہے۔مسلمان اور یہود ایک شخص کا خط پیش ہوا کہ میں نے مخالفین سلسلہ کو ایک جگہ لکھا تھا کہ یہود الیاس کے آسمان پر سے آنے کے منتظر تھے اس واسطے انہوں نے مسیح ناصری کو نہ مانا اور مسلمان مسیح ناصری کے آسمان پر سے آنے کے منتظر ہیں اس واسطے مسیح محمدی کو نہیں مانتے تو یہودیوں اور مسلمانوں میں کیا فرق ہوا؟ اس بات پر مخالفین نے جوش میں آکر مجھ پر نالش کردی ہے۔حضرت نے فرمایا۔گھبرانے کی بات نہیں۔اچھا ہے وہ ثابت کردیں کہ اس معاملہ میں ان میں اور یہودیوں میں کیا فرق ہے۔آپ نے بھی ان سے فرق ہی طلب کیا ہے۔مومن پر ابتلاء آتے ہیں دشمن چاہتا ہے کہ اس کو آگ میں ڈال دے مگر خدا اپنے بندوں کا محافظ ہے۔(ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد۱۲ نمبر۲۰ مورخہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۳) سجدہ سہو ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ اگر امام پانچ رکعت سہواً پڑھ جائے تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ فرمایا۔حدیث سے ثابت ہے کہ سجدہ سہو کرلیا جائے۔(البدر جلد۱۲ نمبر۲۰ مؤرخہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۷) قربانی کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح کا فتویٰ جنگ اغراب (بلقان) کی وجہ سے اکثر لوگوں نے حضرت خلیفۃ المسیح سے دریافت کیا ہے کہ کیا قربانی کی بجائے اس کی قیمت مجروحین ترکی کی اعانت میں دی جاوے تو یہ جائز ہے؟ ایڈیٹر وطن کو اس کے متعلق حضرت نے جو جواب دیا ہے وہ یہ ہے۔شریعت اسلام کی رو سے جہاں تک میرا حافظہ کام دیتا ہے وہاں تک مجھے یہ علم حاصل نہیں ہوا