ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 244

کے متعلق موجودہ صورت میں مجھے یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یا تو ان اعتراضوں کا ذکر ہی نہ کروں اور اگر کروں تو الزامی جواب دے دوں۔یہ سن کر آپ کو جوش آگیا فرمایا۔جس بات پر تمہیں خود اطمینان نہیں اسے دوسروں کو منواتے ہو؟ مومن ایسا ہر گز نہیں کرتا۔یہ کلمات طیبات سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ یہ بزرگ بڑی خشیت الٰہی رکھنے والا ہے اور کوئی بات نہیں کہتا جس کا خود اسے یقین نہیں۔اس بزرگ کا نام مرزا تھا(علیہ الصلوٰۃ والسلام) کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ دوسرا فائدہ میں نے آپ کی صحبت میں یہ اٹھایا کہ دنیا کی محبت مجھ پر بالکل سرد پڑگئی کوئی ہو مخالف یا موافق میرے تمام کا روبار اور تعلقات کو دیکھے کیا مجھ میں ذرہ بھر بھی حُبِّ دنیا باقی ہے۔یہ سب مرزا کی قوت قدسیہ اور فیض صحبت سے حاصل ہوا۔یہ تو مشہور ہے کہ حُبُّ الدُّنْیَا رَأْسُ کُلِّ خَطِیْئَۃٍ۔پس میں نے مرزا کی صحبت سے وہ فائدہ حاصل کیا جو تمام تعلیمات الٰہیہ کا منشاء ہے اور ذریعہ نجات اور اسی دنیا میں بہشتی زندگی۔وَلْیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ ایک شخص سے کسی نے کہہ دیا تم جھوٹ بولتے ہو اس پروہ بہت ہی طیش میںآ گیا اور سخت سست کہنے لگا۔اس کی آواز حضور معلیٰ کے گوش مبارک تک پہنچ گئی۔فرمانے لگے کیا اس شخص نے اپنی عمر بھر میں کبھی جھوٹ نہیں بولا جو یہ اس قدر غیظ و غضب میں آرہا ہے۔اتنی مدت خدا تعالیٰ نے ستاری سے کام لیا اگر ایک بار کسی کی زبان سے جھوٹا کہلوا دیا تو اسے اپنی اصلاح کر لینی چاہیے تھی اور خدا کے حضور شرمسار ہونا تھانہ یہ کہ شور ڈال دیا۔وَاتَّقُوااللّٰہَ تمام انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ تمام نیکیوں کا جامع یہ مبارک کلمہ ہے کہ اِتَّقُوااللّٰہَ۔ایک دفعہ حضور انور سے ایک مخلص نے عرض کیا کہ مجھے ایک ہی نصیحت ایسی دے دیں جس سے میری دنیا و دین سنور جائے اور میں ٹوٹا پانے والوں میں سے نہ ہوں۔فرمایا۔’’خدا سے ڈر اور سب کچھ کر‘‘ یہ حضور ہی کے الفاظ ہیں جو مجھے یاد ہیں۔