ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 245
اَلْمُؤْمِنُ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ ایک دفعہ میں نے عرض کیا کہ موجودہ مادی ترقی اور کالجوں کی تعلیم اور اس کااثر دیکھ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ دین کی طرف توجہ کب ہوگی۔فرمایا۔وہ زمانہ نزدیک ہے پہلی رات کا چاند سب کو نظر نہیں آیا کرتا۔نبی کو جو فراست دی جاتی ہے وہ دوسروں کو نہیں دی جاتی۔حضور نے جب میری بیعت لی تو میرا ہاتھ پہنچے سے پکڑا حالانکہ دوسروں کے ہاتھ اس طرح پکڑتے جیسے مصافحہ کیا جاتا ہے۔پھر مجھ سے دیر تک بیعت لیتے رہے اور تمام شرائط بیعت کو پڑھوا کر اقرار لیا۔اس خصوصیت کا علم مجھے اس وقت نہیں ہوا مگر اب یہ بات کھل گئی۔فَاعْتَبِرُوْا یَااُوْلِی الْاَبْصَارِ مومن کو چاہیے کہ عبرت پکڑے اور ہر ایک واقعہ سے جو دیکھے کوئی نہ کوئی نصیحت حاصل کرے۔ایک دفعہ حضرت اقدس کے مکان کے نزدیک رنڈی کا ناچ ہو رہا تھا۔آپ نے آدمی بھیج کر دریافت کیا کہ یہ کیا لیتی ہے۔معلوم ہوا پانچ روپے۔فرمایا۔میں (مسیح موعود)نے وہ رات سجدہ ہی میں گذار دی۔جوں جوں اس کی آواز پہنچتی میں ندامت سے دبا جاتا کہ اللہ اللہ ایک پانچ روپے سی حقیر رقم لے کر یہ خدمت کو ساری رات کھڑی ہے اور ہم جو اپنے مولیٰ کی ہزار ہا نعمتوں سے مستفیض ہو رہے ہیں اور ہر وقت اس کے احسان اور انعامات کی بارش ہوتی رہتی ہے ایسے غافل ہوں۔(تشحیذ الاذہان) (الحکم جلد ۱۶ نمبر ۳۳ مورخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ ۳ ) احمدی قوم توجہ کرے حضرت خلیفۃ المسیح نے ایک درد بھری تقریر میں فرمایا کہ تم فارغ نہیں ہو کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپس میں بحث کرنے کے لیے وقت پالو بلکہ تمہارے لیے بہت سے کام ہیں۔ہزاروں لوگ خدا کے منکر ہیں تمہارا فرض ہے کہ ان کے آگے خدا کی ہستی کے دلائل پیش کرو۔ہزاروں نبوت کے منکر ہیں، ہزاروں ملائکہ کے منکر ہیں، ہزاروں قرآن مجید کو نہیں مانتے، ہزاروں یوم آخرت سے انکار کرتے ہیں، تمہیں چاہئے کہ ان بے خبروں کو خبر دو ان جاہلوں کے آگے علم کے خزائن رکھو۔(الحکم جلد۱۶نمبر۳۳ مورخہ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ۱۱)