ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 243
بیچ ڈالتا ہے۔کیپ ٹاؤن میں ملایا کا رہنے والا ایک نجار ۱۹۰۴ء میں قتل کے جرم میں گرفتار ہوا تو اس نے اقرار کیا کہ میری ۲۷ بیویاں ہیں۔اسی طرح ہندوستان اور کشمیر کے راجوں مہاراجوں نے بھی جن کے نام نامی ذیل میں درج ہیں کثرت ازدواج میں کسر نہیں رکھی۔راجہ شہر پراگ جیوتش کی ۱۶۰۰۰ رانی۔دیکھو تاریخ فرید کوٹ جلد۱ صفحہ ۲۷۰ و۲۷۲۔سری کرشن جی مہاراج کی ۱۶۸ ۱؎۔ہر ایک رانی سے دس لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔(ایضاً صفحہ۱۷۲) راجہ سالہاہن کی رانیاں تو بہت تھیں لیکن اخیر وقت کی تعداد ۱۴۸۵ تھی۔ایضاً صفحہ ۶۴ جلد۲۔راجہ رسالو کی ان گنت ایضاً صفحہ ۶۸۔راجہ بلبند کی ۱۲۔ایضاً صفحہ۷۷۔راؤ تنو کی ۱۵۔صفحہ۷۷۔راجہ دیوراج کی ۴۵۔صفحہ۱۷۹۔مہاراوّل مند کی ۱۵۔صفحہ۱۸۱۔راؤ جوندھر کی ۱۳۔ایضاً جلد۳ صفحہ ۱۷۔راجہ وزرلدت (بجرادت) کی ہروقت ۳۶۰ موجود رہتی تھیں۔دیکھو تواریخ کشمیر حصہ اوّل صفحہ ۱۸۳۔مصنفہ ملک محمدالدین صاحب فوق۔راجہ پردہ گپت کی ۱۳۔ایضاً صفحہ ۲۳۔راجہ کلش دیو۷۲ ایضاً صفحہ ۲۳۷۔راجہ ہرشدیو ۳۶۰ ایضاً صفحہ۲۴۱۔اور راجہ رام دیونا کی ارجن شہزادہ اور راجہ مہرہ اور راجہ چکرر ورما اور راجہ اوسچل والیان کشمیر کی کئی رانیاں تھیں۔ایضاً صفحہ ۵۸ و ۸۸و ۱۲۱و ۲۱۲ و۲۵۲ اور راجہ چندر دیو والی کشمیر نے حرم سرا کی اس قدر بھرتی کی تھی کہ سال کے دنوں کے حساب سے ہر وقت رانیوں کی تعداد ۳۶۰ سے کم نہ ہونے پاتی تھی۔ایضاً صفحہ ۶۹۔مہابھارت کے عہد میں ایک راجہ کی ہزار رانیاں ہوتی تھیں۔(ماخوذ ازبدر منور۔البدر جلد۱۲ نمبر۱۷ مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحہ۳) فیوضات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ ولسلام (حَدَّثَنَا اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ) اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ ایک اَخْشَی اللّٰہ عالم میں نے دیکھا ہے۔ایک مخالف اسلام کے بعض اعتراضوں کے بارے میں میں نے حضور میں عرض کیا کہ ان کے جواب ۱؎ گوپیوں سے مراد مریدین ہیں۔ایڈیٹر