ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 201 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 201

بغیر مجھے چین نہیں آتی تھی۔ان کو بھی سمجھنا نہایت ہی مشکل ہے کیونکہ ان کا تعلق بہت دور جا کر چند آیتوں سے ہے۔ممکن ہے کہ کسی وقت میں بھی ان کا مطلب بھول جائوں اور نہ بتا سکوں۔صوفیوں کی اب بھی عادت ہے کہ وہ اشارہ سے باتیں کرتے ہیں اور بعض اوقات کچھ شعر پڑھ کر اپنی دل کی تسلی کر لیتے ہیں۔مولو ی فضل حق صاحب خیر آبادی نے ایک مرتبہ مرزا غالب کے سامنے چند شعر پیش کر کے مطلب دریافت کیا۔تو کہا کہ شعر تو یہ میرے بنائے ہوئے معلوم ہوتے ہیں مگر اب مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔مولوی فضل حق صاحب نے کہا کہ جب ان کا مطلب آپ بھی نہیں سمجھ سکے تو اور کون سمجھے گا؟ آپ نے کہا کہ جتنے شعر آپ سمجھ سکتے ہوں اتنے انتخاب کر کے رکھ لیں باقی پھینک دیجئے۔بے کار نہ بیٹھو فرمایا۔میں کبھی نکما بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔پھر ایک بڑھیا کی جانب اشارہ کر کے فرمایاکہ یہ عورت ہمارے یہاں جایا کرتی ہے اس سے دریافت کر لو کہ کیا میں گھر میں بیکار بیٹھا رہتا ہوں۔بے حیائی فرمایا۔ہمارے شہر ایک بڑی نازک اندام رنڈی تھی۔اس سے میں نے کہا کہ میں تم سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب کبھی ہمارے یہاں کوئی نیا شخص آ جاتا ہے تو میں جھجک جاتا ہوں کہ اس شخص سے کس طرح اور کیسی گفتگو کرنی چاہیے مگر تمہارے یہاں تو ہر روز نئے ہی نئے لوگ آتے رہتے ہیں کیا تم کو کبھی جھجک پیدا نہیں ہوتی ؟ اس نے جواب دیا کہ میں تو اس بات پر حیران رہتی ہوں کہ خاوند والی عورتیں کس طرح ہمیشہ ایک ہی خاوند پر صبر کرتی ہیں۔بدکاری میں انسان ترقی کرتا ہے تو بے حیا ہو جاتا ہے۔غربت اچھی ہے فرمایا۔مجھ پر خدا کا بڑا ہی فضل تھا کہ میرا باپ غریب تھا اور میری اولاد پر بھی بڑا ہی فضل ہے کہ میرے پاس روپیہ جمع نہیں۔ایک لڑکے کو مخاطب کر کے فرمایا کہ خیالی امیر بننا اچھی بات نہیں۔اصل میں بعض عادتوں کا چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے اور کسی کی بات نہ ماننا بھی ایک عادت ہوتی ہے۔