ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 202
اللہ پر توکّل فرمایا۔نبیوں کا سارا جہاں مقابلہ کرتا ہے مگر وہ کسی سے بھی نہیں ڈرتے۔ہماری تو سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ ڈر ہوتی کیا بلا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔مومن کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھے۔(المائدۃ :۲۴)۔قرآن میں لکھا ہے۔(البقرۃ :۳۹)۔مومن کیا اور ڈر کیا۔ضرار بن ازورکی بہن کو دیکھو کہ جہاں ہزار دو ہزار ( دشمنان اسلام ) کی صف دیکھتی تھیں فوراً اس میں گھس پڑتی تھیں اور چیر کر چھوڑتی تھیں۔رات کو آگ کا جلنا اچھا نہیں ہمارا رسول ﷺ رات کے وقت کبھی کوئی روشنی مثلاً آگ کو گھر میں نہیں رکھتا تھا۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہ مجھ کو بھی روشنی میں نیند نہیں آتی۔دن پڑھنے کے لئے ایک لڑکے سے فرمایا کہ کیا تم رات کو بھی پڑھا کرتے ہو؟ اُس نے کہا کہ جی ہاں۔کہا کہ تو پھر مجھ سے اپنا علاج مت کروائو ورنہ رات کو مت پڑھو۔اُس نے کہا کہ حضور ہماری اس سے پڑھائی نہیں ہو سکتی۔آپ نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو بارہ گھنٹے مسلسل تو انسان پڑھ بھی نہیں سکتا تو کیا بارہ گھنٹے تمہارے لئے تھوڑے ہوتے ہیں۔ہاکی وغیرہ جو کھیلیں تم لوگ دن کو کھیلتے ہو مت کھیلا کرو۔دن میں پڑھا کرو۔حکیم محمد عمر صاحب نے کہا کہ دیہات کے لوگ تو دن میں اپنی محنت مزدوری کرتے ہیں اور رات کو کھیلتے ہیں۔فرمایا کہ صحابہ بھی رات کو روشنی لے کر نہیں پڑھا کرتے تھے۔لکھا ہے مغرب کے بعد تیر اندازی کرتے تھے۔