ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 197 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 197

تمہیں دیں گے۔اس نے ان کو تیس روپے دئیے اور ایک تیسرے شخص نے جو ان کی برادری کا دشمن تھا کہا کہ انہوں نے کچھ نہیں دیا آئو ہم تم کو دیں گے۔اس نے ان کو ا۸۰سی روپے دئیے۔ایک شخص کو میں نے دیکھا کہ وہ ایک رنڈی کو ستر ہزار روپیہ ماہانہ دیا کرتا تھا۔ایک میری خالہ زاد بہن تھی اُس کے لڑکے کی شادی تھی تو اُس نے مجھے کہا کہ تم مجھے کیا دو گے۔میں نے کہا کہ ایک پیسہ بھی نہیں دوں گا۔اس نے بہت کچھ کہا مگر میں نے اس کو کچھ بھی نہ دیا۔وہ ہمارے یہاں سے چلی گئی اور ہم کو شادی میں بھی نہ بلایا۔شادی کے بعد پھر ہمارے یہاں آئی ا ور کہنے لگی کہ نور دین تیرے سے تو حکم چند ہی اچھا ہے۔اُس نے مجھے کہا کہ چاہے جتنا روپیہ لو میں تمہارے لئے گھر کو آگ لگا دوں گا۔اُس نے ایسا ہی کیا اور جس قدر روپیہ کی ضرورت تھی اُتنا ہی روپیہ مجھ کو دیا۔بس اب تو وہ تیری بجائے میرا بھائی ہی بن گیا ہے۔میں نے اس سے گائیں تک بھی ذبح کرنے کے لئے منگائی ہیں۔میں نے اس سے کہا کہ جو کچھ کہتی ہو سب صحیح ہے مگر میں دو سال کے بعد تم سے پھر ملوں گا۔اُن کی یہاں بہت سی زمین تھی اور وہ زمیندار آدمی تھے۔جب فصل کٹ کر طیار ہوئی تو اُن کے ہاں بڑا غلہ نکلا۔بنیا آیا اور اُس نے ایک دانہ بھی اُن کو نہ اٹھانے دیا اور سب کچھ صرف سود ہی سود میں لے گیا۔کئی فصلیں اسی طرح گزریں۔کچھ ان کی حساب کی لا علمی سے ان کو لوٹا اور کچھ ویسے۔پھر تو لگے چیخنے اور مجھے کہا کہ وہ تو بڑا بے ایمان نکلا۔میں نے کہا کہ ابھی تو وہ تمہارا بھائی تھا ابھی وہ کافر بے ایمان بھی ہو گیا۔رامچندر نبی نہ تھا ماسٹرمحمد یوسف صاحب ایڈیٹر اخبار نور سے رامچندر اور سیتا کے متعلق باتیں کرتے ہوئے فرمایا کہ میں رامچند ر کو ہر گز نبی نہیں کہہ سکتا کیونکہ خدائے تعالیٰ نبیوں کو ذلیل نہیں کرتا کہ لوگ اُن کی بیویوں کو بھگا کر کے لے جائیں۔ہندو حکام کو سلام درس کو جاتے وقت ایک شخص نے سوال کیا کہ ہندو حکام کو سلام کی نسبت کیاحکم ہے؟