ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 177
مولوی صدر الدین صاحب نے عرض کیا کہ مارل ریڈریں انٹرنس وغیرہ میں تو پڑھائی بھی جاتی ہیں لیکن چھوٹی جماعتوں میں معمولی کہانیوں وغیرہ کے انتخاب کی ہوتی ہیں۔ہاں ویسے اصول اخلاق پر انگریزی میں بڑی بڑ ی کتابیں ہیں مگر چونکہ وہ سب عیسائی لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں ان میں عیسائی خیالات ضرور ہوتے ہیں۔خاں صاحب اکبر شاہ خاں صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ ہی بتائو۔آپ کی اُردوزبان میں کوئی اعلیٰ اخلاقی کتاب ہے۔والدین کی اطاعت فرمایا کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ماں باپ مشرک بھی ہوں تب بھی ان کی رعایت و اطاعت ملحوظ رکھو اور(بنی اسرائیل : ۲۵) ثبوت دیا ہے۔نازک مزاج فرمایا۔میرزا مظہر جانِ جاناں نے تو لکھا ہے کہ ہمارا مزاج میرزا یانہ ( نازک ہے) لیکن ہم بھی بڑانازک مزاج رکھتے ہیں۔۷؎ نصیحت مانو ایک بادشاہ کسی بزرگ کے پاس گیا۔اس نے کہا کہ تم رعایا کے سبب سے بادشاہ بنے ہوئے ہو اگر رعایا نہ ہو تو تم بادشاہ نہیں ہو سکتے۔اس لئے اپنی رعایا کے ساتھ بڑی رعایت کیا کرو۔بادشاہ نے کہا بہت اچھا۔پھر اس بزرگ نے کہا کہ فضولی مت کیا کرو۔بادشاہ نے کہا بہت اچھا۔پھر بزرگ نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم شکار بہت کھیلتے ہو۔اس کو بھی چھوڑ دو کیونکہ اس سے بادشاہت کے کاموں میں حرج واقع ہوتا ہے جس سے رعایا کو تکلیف ہوتی ہے۔بادشاہ نے کہا کہ حضور دعا فرماویں۔اُس نے کہا کہ فوراً یہاں سے چلے جائو۔جن کاموں کے نہ کرنے کو تمہاری طبیعت چاہتی تھی اُن کے نہ کرنے کا تم اقرار کرتے رہے لیکن جب تم کو شکار کے چھوڑنے کے لئے کہا تو تم نے کہا کہ میرے لئے دعا کرو۔معلوم ہوا کہ تم شکار کی عادت کو تو چھوڑنا نہیں چاہتے اور میری دعا کی آزمائش کرنا چاہتے ہو۔یہ حکایت سنا کر حضرت امیر المومنین نے ایک سے خطاب کر کے فرمایا اور کہا کہ تم قرض لینے