ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 176

بنایا ہوا ہے۔جس میں ۳۴ نام لکھے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ یہ سب ہماری بیبیاں ہیں۔اس دائرہ میں کنوز کا لفظ لکھا ہوا ہے۔حضرت نے جواب میں کچھ تعبیر نہ فرمائی۔مسیحی لوگوں کو اللہ کا واعظ فرمایا۔مسیحی لوگوں یعنی عیسائیوں کو جب اللہ تعالیٰ نے بہت بڑاوعظ سنایا تو احمقوں نے سمجھا کہ ہم آگے تو مسیح کو خدا سمجھتے تھے اب جو اس کو بندہ کہیں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ناراض نہ ہو جائے۔ایک انگریز یہاں آیا اور جب اس نے بہت وعظ سنا تو وہ مسلمان ہو گیا اور امریکہ چلا گیا۔وہاں ایک بہائی مذہب کا آدمی اُسے ملا۔اُس نے کہا کہ تم ناحق مسلمان ہوئے لوگوں کو بھی ناراض کیا اور مسیح کو بھی۔ہمارا مذہب اختیار کرو کہ اس میں ہر شخص اپنے مذہب پر رہ سکتا ہے۔تم عیسائی بنے رہو مگر صرف اتنا خیال رکھو کہ بہاء اللہ ایک طاقت ہے جو ہمارے مشن میں کام کرتی ہے۔اُس نے یہاں ایک خط لکھا کہ میں بہاء اللہ کا مسلمان بنتا ہوں کیونکہ تمہاری طرح کا مسلمان بننے سے تو بڑے مشکلات پیش آتے ہیں اور لوگوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے مگر اس میں کسی کا بھی مقابلہ کرنا نہیں پڑتا اور جبکہ یہ بھی اسلام کا ہی ایک فرقہ ہے تو پھر اس میں حرج ہی کیا ہے۔اس قوم کے لوگ ہندوئوں میں بھی ہیں۔ایک مرتبہ ایک ہندو سے میرا مباحثہ ہوا۔اُس نے کہا کہ تم بھی کسی بت کو مانتے ہو؟ میں نے کہا نہیں۔کہا کہ مکہ کے بت کو؟ میں نے کہا نہیں۔وہاں کوئی بت نہیں۔کہا کہ دُرگاہ جی کو بھی نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔کہا کہ ہاں بات یہ ہے کہ تم بتوں کی حکومت سے باہر نکل گئے۔میں نے کہا کہ کیا تم نہیں نکل سکتے۔تو وہ مجھے اپنے سر کی بودی ( سر کا چوٹا) دکھا کر کہنے لگا کہ مہاراج ہم تو اس چوٹی سے جکڑے بیٹھے ہیں۔میں نے کہا کہ یہ تو ایک اُسترے کی مار ہے۔بیٹے سے تین زبانیں سیکھنے کی خواہش عبدالحی کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ہماری خواہش ہے کہ تم تین زبانیں سیکھو۔عربی اور انگریزی۔تیسری زبان کا نام پھر بتائیں گے۔مولوی صدر الدین صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ انگریزی میں اخلاق کی کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں ؟