ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 178 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 178

سے تو باز نہیں آتے اور جب تمہیں قرض نہ لینے کے لئے کہا جاتا ہے تو تم کہتے ہو کہ حضور دعا فرماویں۔یہ تو وہی بات ہوئی۔پھر فرمایا کہ قرض ہرگز مت لو جن کے لئے تم قرض لیتے ہو اُنہیں کے سامنے تمہاری کوئی بھی عزت نہیں ہوتی۔فضولی فرمایا۔مسلمانوں کی حالت پر کمال افسوس ہے اور تعجب بھی ہے کہ غریب ہیں پر متکبر ہیں ، فضول ہیں، سُست، بدظن ہیں، نفاق بھی ان میں سب سے بڑھ کر ہے اور اس وقت تو ان کے مقتدایان دین کے پاس سوائے کفر کے فتوئوں کے اور کچھ بھی نہیں۔ایک شخص کے شادی تھی اُس نے نٹ بلائے۔دوسرے نے نٹوں سے پوچھا کہ تم کو کیا دیا ہے۔جب انہوں نے بتلایا تو کہا کہ کچھ بھی نہیں دیا ہمارے یہاں آئو ہم تمہیں دیں گے۔جب وہ بھی دے چکے تب ایک تیسرے نے کہا کہ اُس نے بھی کچھ نہیں دیا آئو ہم تمہیں دیں گے اور اُس نے ان کو اسی۸۰ روپیہ دئیے۔فرمایا۔دیکھو کس قدر فضولی ہے۔اللہ پر بھروسہ کرو ایک شخص کوفرمایا کہ جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ رکھے وہاں ہی رہنا چاہیے کیونکہ لکھا ہے کہ اَ لْاِقَامَۃُ فِیْ مَااَقَامَ اللّٰہُ اور مخالف کو تو انسان ( ناس ) کا بال بھی نہ سمجھے۔خدا کو اگر اپنے مومن بندہ کے لئے سارا جہان بھی تباہ کر نا پڑے تو وہ کر دیتا ہے اور کچھ پرواہ نہیں کرتا کیونکہ وہ تو ہزاروں کو پیدا کر سکتا ہے اور ہزاروں کو تباہ کر سکتا ہے۔دیکھو اس کے ایک مومن بندہ نے صرف اتنا ہی کہا کہ (نوح :۲۷) تو سب کو تہ آب کر کے تباہ کر دیا۔تعلق چاہیے ایک شخص کے فوت ہونے کا ذکر ہوا۔حضور نے افسوس کا اظہار فرمایا۔پھر فرمایا کہ وہ کچھ کمزور آدمی تھا۔حکیم محمد عمر صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری نے عرض کی کہ حضور اس نے اپنے آپ کو چھپایا کبھی کسی سے نہیں وہ علانیہ سب کے سامنے کہہ دیتا تھا کہ ہم میرزا صاحب کے مریدوں میں ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اچھا وہ ایسا شخص تھا۔پھر حکیم محمد عمر صاحب نے عرض کی کہ حضور