ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 173 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 173

سب کے لئے دعا ۱۲؍ستمبر ۱۹۱۲ء بعد نماز ظہر درس قرآن شریف کا دور جو رمضان شریف میں شروع ہوا تھا رمضان ہی میں ختم ہوا۔اس دور میں ۲۹ دن میں قرآن شریف کا ترجمہ اور تفسیر اور وعظ کس درد مند دل سے حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ نے کیا۔معارف و حقائق کا کیسا دریا بہا یا اور دل سے نکلی ہوئی باتیں کس طرح دلوں میں بیٹھیں اس کی کیفیت کو دیکھنے والے ہی جان سکتے ہیں۔بعد ختم قرآن بہت دیر تک دعا مانگتے رہے۔بعض نے دعا کے واسطے رقعے دئیے تھے۔فرمایا۔جن لوگوں نے رقعے نہیں دئیے تھے میں نے ان کے لئے بھی دعا کی ہے۔قرآن شریف کو ختم کر کے پھر شروع کیا اور سورہ الحمد کو پڑھا۔حضرت ام المومنین نے لڈو بھیجے تھے وہ تقسیم کئے گئے اور چھوہارے تقسیم کئے گئے۔شوق مطالعہ ۱۳؍ ستمبر ۱۹۱۲ء عید اور جمعہ حضرت نے مسجد اقصیٰ میں پڑھا۔ایک کتاب چھوٹی سی عربی کی تاریخ بعد یورپ کی چھپی ہوئی بمبئی سے آئی۔کا وی پی ادا کیا گیا۔فرمایا۔اس کتاب کی ا سی جلدیں ہیں فی الحال ایک منگوائی ہے۔اگر لطف آ گیا تو ساری منگوائی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شرک فی النبوت گجرات پنجاب کے ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح کو کہا کہ آپ جو حضرت مرزا صاحب کو نبی کہتے ہیں تو اس میں آپ شرک فی النبوت کرتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دوسرا نبی بناتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح نے جواب دیا کہ وہ شرک ہے جس کے واسطے موسیٰ جیسے نبی نے دعا کی کہ میرے بھائی کو میرے ساتھ شریک کیا جاوے اور اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول کیا اور موسیٰ کے ساتھ ہارون کو بھی نبی بنایا۔( پارہ ۱۶۔رکوع ۱۱)