ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 174
ایڈیٹر۔بنی اسرائیل میں نبی تو بہت گزرے ہیں مگر حضرت موسیٰ کا مانگ کر خدا سے لیا ہوا نبی ایک ہارون ہی تھا۔ایسا ہی امت مرحومہ محمدیہ میں علماء کا درجہ پہلے انبیاء کے برابر ہے تو پھر اولیاء کا درجہ کتنا بڑا ہے۔سینکڑوں مسیح اس امت میں ہو سکتے ہیں، ہوئے اور ہوں گے۔کئی’’ من عیسیٰئِثانی شدم‘‘ ۱؎ کہنے کے درجے تک پہنچے لیکن وہ مسیح جس کا ذکر خصوصیت سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کیا وہ ایک ہی ہے جس کا نام احمد ہے۔مبارک ہیں وے جنہوں نے اُسے قبول کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قَابَ قَوْسَیْنِ کے معنے فرمایا۔قَابَ قَوْسَیْنکے معنے ہیں فَتَدَلّٰی کہ کمان کی طرح اگر ایک طرف ڈھیلی ہو تو دوسری بھی فوراً ڈھیلی ہو جائے۔ایک شخص کو فرمایا کہ یہ تم کو سمجھایا گیا ہے کہ کچھ تم ڈھیلے ہو اور کچھ تمہاری بیوی۔استغفار بہت کرو ایک شخص کو اس کی بے خوابی بے چینی اور پریشانی طبیعت کی شکایت کے جواب میں لکھوایا کہ استغفار بہت کرو۔حوادث الٰہیہ کے آنے کی حکمت ماسٹر عبدالرحیم صاحب نے عرض کیا کہ حضور جاپان اور دوسرے کئی ملکوں میں اس مرتبہ بڑے طوفان آئے ہیں۔فرمایا کہ جب لوگ بڑھنے لگتے ہیں تو خدا تعالیٰ کئی طرح سے کہیں ریلوں کے ٹکرانے سے کہیں طوفانوں سے کہیں جہازوں کو غرق کرکے لوگوں کی تعداد اندازے کے موافق رکھتا ہے۔پھر ماسٹر عبدالرحیم صاحب نے دوبارہ جاپان کے طوفان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ لوگوں نے نہیںسمجھا حضرت نے تو لکھا ہے۔وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے ۱؎ نوٹ۔یہ پورا شعر جو حضرت معین الدین چشتی علیہ الرحمۃ کا ہے اس طرح سے ہے۔دم بدم روح القدس اندر معینے مے دمد من نمے دانم مگر من عیسیٰء ثانی شدم