ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 148
میں تو تیرا فرمانبردار ہو چکا۔فرمانبرداری کا وعظ ابراہیم نے اپنی اولاد اور اسحق نے اپنی اولاد کو کیا اور فرمایا کہ خدا نے تمہارے لئے ایک دین کو پسند کیا ہے جب تمہاری موت آئے تو تم کو فرمانبردار پائے۔۔یاد رکھو وہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا۔تم کہیں یہ خیال نہ کر لینا ہم ان کی اولاد ہیں۔جو تم کرو گے تم کو اس کا بدلہ ملے گا۔۔اِمْلَالٌ سے نکلا ہے۔جب نبیوں پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے تب لکھواتے ہیں۔دین کا لفظ جناب الٰہی کی طرف مضاف ہوتا ہے مگر ملت کا لفظ کبھی جناب الٰہی کی طرف مضاف نہیں ہوتا۔کافی ہو جائے گا اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے اور وہ سمیع و بصیر ہے۔پارہ سیقول۔سورہ بقرہ رکوع ۱۷ میں نے اس آیہ کریمہ پر مدتوں غور کیا ہے ہمارے مفسر لوگ تحویل قبلہ کے متعلق لکھتے ہیں۔مجھ کو روایت سے باہر جانے میں جب تک الہام یا وحی نہ ہونکلنا دشوار ہے بیس صحابی ہیں جو اس آیہ کو تحویل قبلہ کے متعلق بتاتے ہیں۔بنی اسرائیل کے متعلق سورۃ البقر میں خوب بوچھاڑ ہے۔اُن کو اور ان کے علماء وغیرہ سب کو خوب خوب بتایا ہے اور اُن کے حالات گزشتہ یاد دلائے ہیں۔اُن کی غلط کاریاں اور اپنے احسانات و انعامات یاد دلائے ہیں۔پھر اُن کی غلطیاں اور جہالتیں بتا کر ابراہیمی لوگوں کی غلطیاں بتائی ہیں۔میرے اُستاد حضرت رحمت اللہ صاحب کو نبی کریمؐ نے خواب میں بتایا تھا کہ تم سے مباحثہ ہو گا۔تم نے آیت ۱۹ اور ۲۱ سے استدلال کرنا۔یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب تم ابراہیمی تھے تو تم نے قبلہ سے کیوں منہ پھیرا ؟ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب مشرق و مغرب ہمارا ہی ہے۔ہم اپنے مصالح سے جس کو چاہیں ہدایت کریں۔ کے معنے بسبب کے ہیں۔ہم نے تم کو بنایا ہے۔تم لوگوں کی نگرانیاں کرو اور رسول تمہارا نگران ہو۔