ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 149
کے معنے اعلیٰ درجے کے ہیں۔اس لئے تم کو چاہئے کہبنو۔پارہ ۴ رکوع ۳ اور سورہ(اٰل عمران) کے رکوع۱۲ میں لکھا ہے کہ تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرو اور برائیوں سے روکو۔یہ تحویل قبلہ بھی بڑا بھاری امتحان تھا کہ کون خدا تعالیٰ اور رسول کا متبع ہوتا ہے اور کون نہیں ہوتا۔کی ضمیر مجھ کو حضرت نبی کریم ہی کی طرف پسند معلوم ہوئی ہے۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ذکر پہلے آیا ہے۔رکوع ۱۸ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے پر آریہ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ تم بیت اللہ کی پوجا کرتے ہو۔یہ خیال اُن کا بالکل غلط ہے۔وہ نہیں جانتے کہ انسان جب عبادت الٰہی کرے گا تو کسی نہ کسی سمت کو تو اُس کا منہ ہو ہی گا۔ہر صورت یہ اعتراض انسان پر آ سکتا ہے کیونکہ وہ بھی مشرق کی طرف عبادت میں اور آگ کی طرف ہَون میں منہ کرتے ہیں اس لئے آریہ لوگ خود بھی اس کے نیچے ہی ہیں۔اہل اسلام اگر نماز اس طرح سے پڑھتے کہ کسی کا منہ پورب کو کسی کا پچھم کو کسی کا اُوتر کو اور کسی کا دکن کو تو کیا اس سے سب کے خیالات و اعتقادات کا یکساں ہونا اور سب کے اتفاق و محبت کا اظہا رہو سکتا تھا۔پھر جو خوبی اور خوبصورتی دوش بدوش کھڑے ہو کر اور ایک جانب کو منہ کر کے عبادت الٰہی کرنے میں پائی جاتی ہے وہ دوسری صورت میں کہاں پیدا ہو سکتی ہے۔لطف تو اس میں ہے کہ ایک خدا کے پرستار ایک کتاب کے ماننے والے ایک ہی رسول کے مطیع ایک ہی جانب کو منہ کر کے عبادت الٰہی کرتے ہوں جو اُن کی یکجہتی اور ان کے ہم اصول ہونے پر ایک مضبوط دلیل ہے۔اور اس میں کیا مزا ہے کہ زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کی پرارتھنا کرتے ہیں اور جب پرارتھنا کرنے کے لئے بیٹھیں تو جس طرف کو ایک مہاشہ کا منہ ہو اُدھر دوسرے کے چوتڑہوں اور جدھر تیسرے کے چوتڑہوں اُدھر چوتھے کا منہ ہو۔گویا کہ جنگل میں ایک دوسرے سے روٹھے ہوئے بیٹھے ہیں۔